یہ مقدمہ اَیبٹ کے قبل از وقت پیدائش والے بچوں کے دودھ کے پاؤڈر کے ایک بیچ کے بارے میں تھا جو بیکٹیریا سے آلودہ پایا گیا تھا۔ اس سے ایک بچے کو شدید آنتوں کی بیماری، نیكرٹائزنگ اینٹروکولائٹس (NEC)، ہوئی، جو ایک ممکنہ طور پر جان لیوا بیماری ہے اور خاص طور پر قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو متاثر کرتی ہے۔
مقدمے کے دوران یہ واضح ہوا کہ اَیبٹ کو پہلے بھی دودھ کے پاؤڈر کے ممکنہ مسائل کے متعلق اطلاعات موصول ہو چکی تھیں، مگر ان خبروں کو مناسب سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ کمپنی پر لاپرواہی کا الزام تھا کیونکہ اس نے صارفین کو خطرات سے بروقت آگاہ کرنے کے لیے کارروائی نہیں کی۔
جیوری نے یہ فیصلہ دیا کہ اَیبٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور متاثرہ بچے کے خاندان کو 495 ملین ڈالر کے ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ یہ رقم طبی اخراجات کے علاوہ بچے اور والدین کو پہنچنے والے جذباتی اور جسمانی نقصان کو بھی شامل کرتی ہے۔
اَیبٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں اور اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کمپنی نے کہا کہ ان کے مصنوعات کی سلامتی سب سے اہم ہے اور وہ اپنی کوالٹی کنٹرول اور حفاظتی پروٹوکولز کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
اس مقدمے اور اس کے بعد دیے گئے فیصلے نے میڈیا اور غذائی صنعت میں وسیع توجہ حاصل کی ہے۔ اس سے خوراک ساز کمپنیوں کی ذمہ داریوں اور صارفین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر بحث شروع ہوئی ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ کیس ایک بار پھر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کے خطرات کے بارے میں شفاف ہوں اور مسائل کی پہلی علامات پر فعال اقدام کریں۔
فیصلے کے ردعمل میں کچھ سرمایہ کاروں اور صارفین کے اداروں نے اَیبٹ کی انتظامیہ اور مصنوعات کی سلامتی پر اعتماد میں شک کا اظہار کیا ہے۔ کمپنی کے لیے مالی اور ساکھ دونوں لحاظ سے طویل مدتی اثرات ابھی غیر واضح ہیں۔

