ہربرٹ ہینڈلباؤر اضافے سے منع کر رہے ہیں کیونکہ اس سال کے شروع میں نرخوں میں پہلے ہی اضافہ ہو چکا تھا۔ فضلے کی نکاسی قانونی طور پر ضروری ہے۔ پیو ریہ نے ہینڈلباؤر کو اس ماہ کے آخر تک ‘‘سوچنے کا وقت’’ دیا ہے کہ وہ باقی بقایاجات ادا کر دیں، بصورت دیگر فضلہ قصابی گھروں سے نہ لیا جائے گا۔
ہینڈلباؤر کے مطابق وہ ریڈ اور لنز میں اپنی جگہوں پر ہفتہ وار تقریباً 7,000 سے 8,000 خنزیر اور تقریباً 1,500 گائیں ذبح کرتے ہیں۔ ان کمپنیوں میں براہ راست 250 افراد کام کرتے ہیں اور 150 مزید افراد افرادی قوت کی کمپنیوں کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ اس علاقے کے بہت سے کارکنان ہینڈلباؤر کے کام سے براہِ راست یا بلاواسطہ وابستہ ہیں۔ ممکنہ بندش مقامی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگی۔
ہینڈلباؤر کی آسٹریائی گوشت کی صنعت میں پوزیشن زراعت اور خوراک کی فراہمی دونوں کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ کمپنی آسٹریا کے گوشت کے ایک بڑے حصے کو پروسیس کرتی ہے اور کسانوں اور مویشی پالنے والوں کا وسیع نیٹ ورک رکھتی ہے جو اپنی مویشی فراہم کرتے ہیں۔
بندش ایک زنجیری ردعمل پیدا کر سکتی ہے جو مویشی پالنے کی صنعت کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بنے گی۔ کسانوں کے لیے مارکیٹ ختم ہو جائے گی، جس سے نہ صرف ان کی آمدنی کو خطرہ ہوگا بلکہ مویشیوں کی زیادتی بھی جنم لے سکتی ہے اور اس کے تمام منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ ممکنہ بندش کئی عوامل کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ ایک طرف، ذبح کے فضلے کی پروسیسنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے کمپنی کو مالی مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ یہ ایک ایسا خرچ ہے جو آسانی سے منتقل نہیں کیا جا سکتا، جس سے کمپنی کی منافع بخش صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری طرف، آسٹریا میں گوشت کے استعمال میں واضح کمی جاری ہے۔ زیادہ سے زیادہ آسٹریائی کم گوشت کھانے یا مکمل طور پر نباتاتی خوراک اختیار کرنے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ یہ رجحان آسٹریائی حکومت کی سرگرم تشہیری مہموں کی بدولت فروغ پا رہا ہے۔ نئی غذائی ہدایات متعارف کروائی گئی ہیں جو نباتاتی مصنوعات کے استعمال کی حمایت کرتی ہیں اور حیوانی مصنوعات کی مقدار کم کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
اگرچہ قصابی خانہ کھلا رکھنے کی آخری کوشش کی جا رہی ہے، مگر مستقبل غیر یقینی ہے۔ آسٹریائی حکومتی حکام اور مختلف مفادات رکھنے والے گروہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

