اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے بلاکنگ اسٹیٹس کو متحرک کرے، جس کے ذریعے یورپی افراد اور تنظیموں کو امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچایا جا سکے۔
کئی یورپی سیاستدانوں کے مطابق امریکی اقدامات بین الاقوامی عدلیہ کی آزادی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یورپی یونین خاموش نہیں رہ سکتی جب کہ آئی سی سی کے وکلاء اور ججز امریکی مالی اور ویزے کی پابندیوں کی زد میں آ رہے ہیں۔
گرفتاری کے وارنٹ
واشنگٹن کی پابندیاں اسرائیل، فلسطین اور افغانستان کے حوالے سے آئی سی سی کی تحقیقات اور گرفتاری کے وارنٹ سے منسلک ہیں۔ پابندیوں کا نشانہ بننے والوں میں وکلاء، ججز اور فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر شامل ہیں۔
Promotion
وہ کہتے ہیں کہ امریکی اقدامات ان کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔ کئی موقعوں پر بینک خدمات، کریڈٹ کارڈز اور بین الاقوامی ادائیگیاں دستیاب نہیں رہیں۔ ان کی ریاستہائے متحدہ سفر بھی ناممکن ہو گئی ہے۔
اسپین اور سلووانیا
یورپی یونین میں واشنگٹن کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، لیکن یورپی کمشنرز اب تک اس میں حصہ لینے سے گریز کر رہے ہیں۔ اسپین ان ممالک میں شامل ہے جو ڈی ہاگ میں قائم آئی سی سی کی حمایت میں کھلے عام آواز اٹھا رہے ہیں۔ سلووانیا، نیدرلینڈز اور بیلجیم بھی ایسے ممالک میں شمار ہوتے ہیں جو اقدامات کی حمایت کرتے ہیں یا اپنی پابندیاں لگا چکے ہیں۔
تاہم یورپی یونین اب بھی مزید اقدامات کے بارے میں متفق نہیں ہے۔ دو اسرائیلی وزراء کو یورپی سطح پر پابندیوں کا تجویز کردہ خیال تمام یورپی ممالک کی متفقہ حمایت حاصل نہیں کر سکا۔ کئی ممالک نے صاف کہا کہ وہ اس سے متفق نہیں ہیں۔
جنگی جرائم
پابندیوں پر بحث اس وقت ہورہی ہے جب آئی سی سی ممکنہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس میں اسرائیلی حکام اور فلسطینی علاقوں کی صورتحال سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔
یورپی وکلاء، پارلیمنٹیرینز اور حقوقِ انسانی کی تنظیمیں کافی عرصے سے برسلز سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ زیادہ مؤثر اقدام کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین آئندہ دباؤ کے خلاف عدالت کی سیاسی حمایت کرتی ہے لیکن ٹھوس تحفظ فراہم نہیں کرتی تو اس کی ساکھ متاثر ہوگی۔

