خصوصاً بائیرن میں اناج اگانے والے کسان اگلے موسم کی پیداوار کے حوالے سے مخلوط توقعات رکھتے ہیں۔ جب کہ کچھ فصلیں اچھی حالت میں ہیں، تاہم دوسرے کھیت پانی کی زیادتی کا سامنا کر رہے ہیں۔
شمالی جرمنی میں، خاص طور پر شلیزوگ-ہولسٹین میں، گلی ہوئی زمینوں کی وجہ سے فصل کی کٹائی مشکل ہو گئی ہے۔ اس علاقے کے کسان اپنی زمینوں کو کام میں لانے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں کیونکہ زمین پانی سے بھر چکی ہے۔ اس سے نہ صرف فصل کی کٹائی میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ ناکام فصل ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح آسٹریا میں بھی شدید بارشوں کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسٹائیر مارکین کے کسان نمی سے بھرپور زمینوں اور سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں، جو مکئی اور آلو جیسی فصلوں کی کٹائی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ حالات اس سال کی کل پیداوار کو خاطر خواہ حد تک کم کر دیں گے
فصل کی کٹائی کے نتائج کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے اقتصادی پہلو بھی ہیں۔ پورے جرمنی اور آسٹریا میں کسان کم پیداوار کی وجہ سے خدشہ رکھتے ہیں کہ خوراک کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ زرعی تنظیمیں اناج اور آلو جیسے بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی وارننگ دے رہی ہیں، جو مہنگائی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال کسانوں کو موسمی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ جرمنی اور آسٹریا میں زرعی تنظیمیں ایسے اقدامات پر کام کر رہی ہیں جن سے شدید موسمی حالات سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔ اس میں نکاسی آب کے نظام میں سرمایہ کاری اور ایسی فصلوں کی ترقی شامل ہے جو بدلتے ہوئے موسمی حالات کے خلاف زیادہ پائیدار ہوں۔

