برطانوی اخبارات دی گارڈین اور فائنینشل ٹائمز نے اطلاع دی ہے کہ ’مصنوعی گوشت کمپنی‘ میٹلی کو توقع ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک لیب میں اُگائی گئی مرغی سے بنی پہلی کتوں اور بلیوں کے کھانے کی ڈبے بازاروں کو فراہم کر سکے گی۔
سویابین یا مٹر کے پروٹین سے بنے گوشت کے متبادل کی فروخت اور دستیابی حالیہ عرصے میں کئی یورپی ممالک میں بڑھ گئی ہے۔ لیکن لیبارٹری میں تیار کردہ مرغی کا گوشت انڈوں کے خلیات سے تیار کیا جاتا ہے۔
میٹلی کے ڈائریکٹر نے فائنینشل ٹائمز کو بتایا کہ یہ منظوری جزوی طور پر برگزٹ کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلا کی وجہ سے برطانوی کمپنیوں کو اب اس شعبے میں یورپی قوانین کی پابندی نہیں کرنی پڑتی۔
لیکن میٹلی کی مصنوعات کو اس لیے بھی منظوری ملی کیونکہ سابقہ کنزرویٹو حکومت نے بائیوٹیکنالوجی اور جدید تحقیق کو فروغ دیا۔
ڈائریکٹر اوون اینسر کہتے ہیں کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ برطانیہ فوڈ ٹیکنالوجی کے جدید شعبوں میں خود کو ایک رہنما کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔
دی گارڈین لکھتا ہے کہ بہت سے پالتو جانوروں کے شیدائیوں کو اپنے جانوروں کو دوسرے جانوروں کا گوشت کھلانا پسند نہیں آتا۔ اخبار نے ونچیسٹر یونیورسٹی کی ایک تحقیق کا حوالہ دیا ہے جس میں 50 فیصد پالتو جانور رکھنے والے افراد نے کہا ہے کہ ان کے لیے لیب میں تیار شدہ گوشت اپنے جانوروں کو کھلانا قابل قبول ہے۔ اسی تحقیق میں 32 فیصد افراد نے کہا کہ وہ خود بھی اس قسم کا گوشت کھانے پر غور کر سکتے ہیں۔
کئی ممالک بشمول فرانس، اٹلی، آسٹریا اور امریکہ کے سات ریاستوں میں لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کی سخت مخالفت ہے۔ فائنینشل ٹائمز کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسے کسانوں کی روزگار کی حفاظت کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

