برطانیہ اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے مذاکرات شدید دباؤ میں ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اسٹارمر حکومت کچھ امریکی زرعی مصنوعات کی درآمدی پابندیاں ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ ان مصنوعات پر لاگو ہوگا جو برطانیہ کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔
امریکی مطالبات میں خاص طور پر کلورین سے دھوئی گئی مرغی اور ایسے گوشت کی اجازت شامل ہے جو پالتو جانوروں کو بڑھوتری کے ہارمون دیے جانے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ امریکی مذاکرات کار کہتے ہیں کہ یہ مصنوعات کھانے کے لیے محفوظ ہیں۔ تاہم، برطانوی کسان اس سے اتفاق نہیں کرتے اور غیر منصفانہ مقابلہ کے خوف کا اظہار کرتے ہیں۔
کئی برطانوی اخبارات میں حالیہ دنوں میں وارننگ دی گئی ہے کہ وزیر اعظم اسٹارمر 'برطانوی کسانوں کی قربانی' دے رہے ہیں تاکہ واشنگٹن سے معاشی رعایتیں حاصل کی جا سکیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں مزاحمت زیادہ ہے۔
اسٹارمر کی ممکنہ پالیسی تبدیلی پر سیاسی بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔ ناقدین ان پر 'بریگزٹ کے خلاف غداری' کا الزام عائد کر رہے ہیں کیونکہ وہ یورپی یونین سے خروج کے بعد قائم کردہ برطانوی قواعد و معیارات کو کمزور کر رہے ہیں۔
کسانوں کی تشویش عالمی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت دیگر ممالک پر درآمدی محصولات کی دھمکی دے کر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے جیسے برطانیہ جیسے ممالک جلد نئے تجارتی معاہدے کرنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر برطانیہ امریکی مصنوعات کی اجازت دے دیتا ہے تو بدلے میں اسے اپنی برآمدات پر کم محصولات مل سکتے ہیں۔ ایک امریکی لابی نمایندے نے کہا ہے کہ برطانوی صارفین کو پھر زیادہ مہنگے کھانے یا سستا امریکی گوشت درآمد کرنے میں سے انتخاب کرنا ہوگا۔

