ان کی تقرری اس بات کی علامت ہے کہ نئی برازیلی حکومت جنگلات کی حفاظت کو اپنے ایجنڈے پر اوپر رکھتی ہے۔
گزشتہ ماہ برطرف ہونے والے صدر بولسونارو نے جنگلات کو زیادہ تر اقتصادی امکانات کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے جنگلات کی کٹائی کو زرعی زمین کی تیاری اور نئے اناج اور مکئی کے کھیت بنانے کے لیے فروغ دیا۔ اس طرح برازیل گزشتہ چند سالوں میں دنیا کے سب سے بڑے مکئی برآمد کنندگان میں شامل ہو گیا۔
مارینا سلوا پہلے بھی سینیٹر رہ چکی ہیں اور 2010 میں صدارتی انتخابات میں دوسرے نمبر پر آئیں۔ سلوا نے کہا ہے کہ وہ اپنی نئی ذمہ داری میں علاقے میں حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کے لیے کام کریں گی۔ توقع ہے کہ جلد ہی جنگلات کی کٹائی روکنے اور حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
سلوا کی تقرری کو ایمیزون کے جنگلات کے مستقبل کے لیے مثبت علامت سمجھا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے کارروائی کرے گی۔
انہوں نے پہلے بھی واضح کیا ہے کہ جنگلات کی حفاظت صرف برازیلی حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی بھی ہے۔
ان کی تقرری ایمیزون کے مقامی باشندوں کے لیے بھی خوش آئند خبر ہے۔ بولسونارو کے دور میں مقامی لوگوں کے حقوق اکثر پامال کیے گئے اور ان کے مفادات کا کم خیال رکھا گیا۔ سلوا ہمیشہ مقامی لوگوں کے حقوق اور ان کے رہائشی علاقوں کی حفاظت کے لیے سرگرم رہی ہیں۔

