کوپن ہیگن کے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم میٹے فریڈریکسن نے اعلان کیا کہ انہوں نے بادشاہ فریڈرک کو 24 مارچ کو انتخابات کرانے کی سفارش کی ہے۔ اس طرح انتخابات معمول سے چند مہینے پہلے منعقد ہوں گے۔
موجودہ پارلیمانی مدت اس خزاں تک جاری ہے۔ اگر کوئی مداخلت نہ کی جاتی تو انتخابات اکتوبر کے آخر تک ہوں گے۔ فریڈریکسن نے تاریخ کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
گرین لینڈ
یہ اعلان کوپن ہیگن اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کے دور میں آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس سے سفارتی دباؤ اور بین الاقوامی کشیدگی پیدا ہوئی۔
Promotion
اپنی تقریر میں فریڈریکسن نے کہا کہ یہ بہت اہم انتخابات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارکی اور یورپی باشندوں کو آنے والے سالوں میں خودمختار بننا ہوگا، امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے متعین کرنا ہوگا اور برِ برصغیر کی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا۔
فریڈریکسن نے کہا کہ حکومت انتخابی مہم کے دوران چوکس رہے گی۔ ان کے مطابق گرین لینڈ کے حوالے سے تنازع ابھی ختم نہیں ہوا اور حکومت ڈنمارک کے مفادات کی حفاظت جاری رکھے گی۔
ڈنمارک کی وزیر اعظم نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں اپنی پارٹی کے پولز میں اضافہ دیکھا ہے۔ حکمران سوشلسٹ جمہوری پارٹی کو مقامی انتخابات میں پہلے شکست کا سامنا تھا، لیکن حالیہ سروے کے مطابق انہیں دوبارہ حمایت ملی ہے۔
اقلیت
فریڈریکسن 2022 سے لبرلز اور موڈیریٹس کے ساتھ اتحاد میں حکومت کر رہی ہیں۔ سروے اس اتحاد کے اکثریت کھونے کا عندیہ دیتے ہیں۔ وزیر اعظم نے انتخابات کے بعد کسی بھی تعاون کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔ اس طرح انہوں نے بائیں بازو کی پارٹیوں کے ساتھ تعاون کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔
ڈنمارک اکثر اوقات اقلیت کی حکومت کے تحت چلتا ہے جو پارلیمنٹ میں بدلتے ہوئے اکثریتی تعاون کے ساتھ کام کرتی ہے۔ آئندہ انتخابات بھی تعاون اور حمایت کے بارے میں نئی بات چیت کا باعث بن سکتے ہیں۔

