ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن FAO کا کہنا ہے کہ روسی حملے کی وجہ سے یوکرین میں اناج کی قیمتیں مزید 20% بڑھ سکتی ہیں، اور کھاد کی قیمتیں 13% تک بڑھ سکتی ہیں۔ یہ جنگ بھوک کو بھی بدتر کر سکتی ہے۔
FAO کی ایک نئی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں غذائی قلت کا شکار افراد کی تعداد 7.6 ملین افراد سے بڑھ کر تقریباً دگنی ہو کر 13.1 ملین افراد تک پہنچ سکتی ہے۔
FAO کا اندازہ ہے کہ یوکرین میں اس سال 20% سے 30% تک سردیوں کی گندم، مکئی اور سورج مکھی کی فصلیں ممکنہ طور پر نہ تو بوئی جائیں گی اور نہ ہی کاٹی جا سکیں گی، اور باقی ماندہ فصلوں کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے۔
اگرچہ جنگ کی شدت اور دورانیہ غیر یقینی ہیں، FAO کے ڈائریکٹر جنرل، QU Dongyu نے رپورٹ کے اجراء کے موقع پر ایک بیان میں کہا کہ روس اور یوکرین کی زرعی سرگرمیوں میں خلل عالمی سطح پر خوراک کی عدم تحفظ کو شدید بنا سکتا ہے۔
FAO کے ماہرین اقتصادیات نے جنگ کے عالمی خوراک کی سلامتی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ ‘‘معتدل’’ اور ‘‘شدید’’ صورتِ حال کی بنیاد پر لیا، اس بات پر منحصر ہے کہ یوکرین اور روس کی برآمدات کتنی کم ہو جاتی ہیں۔ گندم کی قیمت معتدل منظر نامے میں 8.7% اور شدید منظر نامے میں 21.5% تک بڑھ سکتی ہے۔ مکئی کی قیمت 8.2% سے 19.5% تک بڑھ جائے گی۔
یوکرین سورج مکھی کا بھی اہم پیدا کرنے والا ملک ہے، اور سورج مکھی کے تیل کی فراہمی میں کمی دیگر نباتاتی تیلوں کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالے گی، رپورٹ کے مطابق۔
قیمتوں میں اضافہ جانوروں اور پولٹری پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ ‘‘خوراک کے لیے استعمال ہونے والی گندم اور مکئی کی فراہمی کم ہونے سے چارہ جات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس طرح خوراک پر زیادہ انحصار کرنے والے پولٹری اور سور کے گوشت کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے،’’ ماہرین نے کہا۔
رپورٹ نے حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی خوراک کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کریں، جیسا کہ اناج کی برآمدات پر پابندی لگانا، جیسا کہ ہنگری اور بلغاریہ نے گزشتہ ہفتے کیا۔
FAO رپورٹ کے مطابق، ‘‘اپنی خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے سے پہلے حکومتوں کو بین الاقوامی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ برآمدات پر پابندیاں عالمی منڈیوں میں قیمتوں کو بڑھا سکتی ہیں۔’’

