ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے ژاں-لیک میلنچون کی قیادت میں بائیں بازو کی اتحاد کی دوبارہ جان اُبھار۔ یہ اتحاد، جو سوشلسٹ، گرینز اور کمیونسٹ پر مشتمل ہے، نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور روایتی فرانسیسی طاقت کے توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ ماضی میں 'بائیں محاذ' کی تشکیل کی مشابہ کوششیں پروگراموں اور سیاستدانوں کے درمیان شدید اختلافات کی وجہ سے ناکام رہی ہیں۔
اب بائیں بازو کا اتحاد صدر ایمانوئیل میکرون کی موجودہ حکمران جماعت کے ساتھ حکومت بنانے کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے، جنہوں نے دوسری پارٹی کے طور پر توقع سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔
یورپی یونین کے ترقی پسند سیاستدان فرانسیسی ووٹرز کی انتہائی دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی پیشرفت کو روکنے کے لیے ان کے انتخاب کی تعریف کرتے ہیں۔ وہ فرانسیسی انتخابات کو اس بات کی مثال سمجھتے ہیں کہ کس طرح تعاون اور اتحاد سازی زیادہ متوازن اور شامل سیاست کا باعث بن سکتے ہیں۔
ووٹوں کے نتائج کو انتہائی دائیں بازو کے خلاف ایک ’نہیں‘ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں مرین لوپن کے راسمبلمنٹ نیشنل (RN) نے کچھ نشستیں جیتیں، لیکن اقتدار میں آنے کے لیے کافی نہیں۔ جرمنی میں بھی کئی مہینوں سے انتہائی دائیں بازو کی AFD کے ساتھ ممکنہ تعاون کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
ہالانکہ نیدرلینڈز میں پچھلے ہفتے انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی قیادت میں حکومت قائم ہوئی ہے۔ یورپی یونین اور اسلام مخالف سیاستدان گیرٹ ولڈرز کو دو وسطی جماعتوں اور ایک نئی عوامی کسان پارٹی کی حمایت حاصل ہوئی۔
انتخابات کے نتائج فرانسیسی سیاستدانوں کے لیے سیاسی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے نمایاں چیلنجز لے کر آئے ہیں۔ صدر میکرون اور ان کے نئے بائیں بازو اتحاد کے ساتھیوں کو ایک تقسیم شدہ پارلیمان میں کام کرنا ہوگا۔
یہ صورتِ حال فرانسیسی سیاسی نظام میں نئے طرز عمل کا تقاضا کرتی ہے جس میں اتحاد سازی اور تعاون اہم ہوں، جیسا کہ بہت سی دیگر یورپی جمہوریاؤں میں پایا جاتا ہے۔

