ایمسٹرڈیم کی عدالت کا یہ فیصلہ یورپ میں ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔ یہ اس وقت ہوا ہے جب Grok کے حوالے سے دنیا بھر میں شکایات کی لہر چل رہی ہے۔ اس دوران یورپی پارلیمنٹ ایک اور وسیع تر پابندی پر کام کر رہی ہے تاکہ ایسی فحش مواد کی ترسیل پر روک لگائی جائے جو بچوں کے ذریعے بھی دیکھی جا سکتی ہو۔
Grok پر جرمانہ
ایمسٹرڈیم کی عدالت نے انٹرنیٹ کمپنیوں کو Grok کی جعلی فوٹو استعمال کرنے کی پابندی کی خلاف ورزی پر روزانہ 100,000 یورو جرمانہ کی دھمکی دی ہے۔ عدالت نے xAI کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ X، جو پہلے ٹویٹر تھا، پر Grok کی پیش کش نہ کرے جب تک وہ کمپنی عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کر رہی ہو۔ X کے مالک ایلون مسک نے اب تک ہالینڈ کی اس پابندی پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
کمپنی کے وکیلوں نے پہلے کہا تھا کہ جنوری میں انہوں نے سیکیورٹی اقدامات سخت کیے تھے تاکہ Grok اصلی لوگوں کی ایسی تصاویر کو تبدیل نہ کرے جن میں وہ پوشاک میں نہ ہوں، جن میں سے ایک اقدام نے تصاویر بنانے کی سہولت صرف ادا کرنے والے صارفین تک محدود کر دی تھی۔ لیکن ہالینڈ کے جج کو یہ اقدامات کافی نہیں لگے۔
Promotion
وسیع تر یورپی یونین پابندی
یورپی کمیشن نے جنوری میں X کے خلاف ایک رسمی تفتیش شروع کی کیونکہ Grok کو یورپی یونین میں متعارف کرنے سے پیدا ہونے والے خطرات موجود ہیں۔ جمعرات کو یورپی پارلیمنٹ نے بھی ایسی AI ایپلی کیشنز پر پابندی کی حمایت کی جو جنسی طور پر واضح تصاویر تخلیق یا تبدیل کرتی ہیں۔
ایسی پابندی اس سال کے آخر تک نافذ العمل ہو سکتی ہے۔ امریکی ٹیک کمپنیوں نے انٹرنیٹ ٹریفک پر یورپی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور اسے سنسرشپ قرار دیا ہے۔

