یہ شپ ستمبر میں یوراگوئے سے 2,900 سے زائد مویشیوں کے ساتھ روانہ ہوئی تھی جو ترکی اور مشرق وسطیٰ کے لئے تھی۔ تاہم، پہنچنے پر معلوم ہوا کہ بڑی تعداد میں دستاویزات میں غلطیاں تھیں۔ جیسے کہ کان کے ٹیگز موجود نہیں تھے، معلومات مطابقت نہیں رکھتیں یا شناخت مکمل نہیں تھی۔
ترک حکام نے اس شپ کو بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف برآمدی دستاویزات میں بےقاعدگیوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ ترکی نے اس بات کی تردید کی کہ کوئی غیر قانونی نقل و حمل یا اسمگلنگ ہوئی ہو۔
گزشتہ کئی سالوں میں کئی پرانے مویشیوں کے ٹرانسپورٹ شپوں کو یورپی یا ترک بندرگاہوں پر داخلے سے روک دیا گیا کیونکہ درآمدی دستاویزات یا مال برداری میں مسائل تھے۔ جانوروں کی بیماریوں کے اندیشے کی وجہ سے جانوروں کے داخلے کے سخت قواعد موجود ہیں۔
ترک انکار کی وجہ سے شپ کو ہفتوں تک کھلے سمندر میں رکا رہنا پڑا۔ بدبو کے باعث اسے بندرگاہ کے اندر بھی رکنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ کارگو شپ مال اتار نہ سکا اور نہ ہی آگے جا سکا۔ جانور وہی ایک جگہ تھے جبکہ عملہ اجازت کا انتظار کر رہا تھا۔
اس صورتحال نے شپ پر موجود جانوروں کی حالت کے بارے میں تشویش پیدا کر دی۔ متعدد ذرائع نے بتایا کہ حالات خراب ہوئے اور جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے دباؤ، تھکن اور ناکافی دیکھ بھال کی وارننگ دی۔
سفر کے دوران کم از کم 58 مویشی ہلاک ہو گئے۔ اموات کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔ تقریباً سو نئے پیدا ہونے والے بچھڑوں کو ترک معائنہ کاروں نے تلاش نہیں کیا۔
اس دوران شپ ہفتوں ترک ساحل کے نزدیک دیکھائی دیتی رہی مگر مال اتارنے یا سفر جاری رکھنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔ انتظار، دستاویزات کے مسائل اور جانوروں کی ہلاکت نے جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کی تشویش بڑھا دی، جنہوں نے اس نقل و حمل کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
آخر کار شپ کو روانہ ہونے کی اجازت ملی۔ چونکہ جانوروں کو ترکی میں داخلے کی اجازت نہیں تھی، عملے نے واپس جنوبی امریکہ کی طرف روانگی اختیار کی۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ مویشیوں کا کیا کیا جائے گا۔

