اس کا سبب کورونا دور کو قرار دیا گیا ہے جب بہت سے لوگوں نے تنہائی اور علیحدگی سے بچنے کے لیے پالتو جانور اپنائے تھے، مگر اب ظاہر ہے کہ ان کی مزید ضرورت نہیں رہی۔
کئی پناہ گزین مراکز اپنی گنجائش سے زائد بھر چکے ہیں اور نئے جانوروں کو صرف ہنگامی صورتِ حال میں ہی قبول کر سکتے ہیں۔ دیکھ بھال، توسیع اور سہولیات کی بہتری کے لیے مالی وسائل کی کمی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا منفی اثر وہاں مقیم جانوروں کی فلاح و بہبود پر پڑ رہا ہے۔
بہت سے پناہ گزین مراکز مزید جانوروں کو قبول کرنے کے قابل نہ ہونے کے باعث اس نازک صورتحال پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف پہلے ہی زیادہ بوجھ تلے دبے ہوئے وسائل پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے بلکہ جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی سنگین نتائج رکھتا ہے۔
صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت اور نجی چندہ دہندگان دونوں کی طرف سے مزید مالی امداد کی ضرورت ہے۔ یہ رقم رہائش کو بہتر بنانے، طبی دیکھ بھال اور خوراک فراہم کرنے کے ساتھ جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے مزید عملہ بھرتی کرنے میں استعمال ہو گی۔
اس کے علاوہ اپنانے کی حوصلہ افزائی اور ذمہ دار پالتو جانور رکھنے کو فروغ دینے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس سے جانوروں کے پناہ گزین مراکز میں نئی ضرورت مند جانوروں کے لیے جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس کے لیے حکومت، جانوروں کی فلاح و بہبود کی تنظیموں اور عوام کے مشترکہ اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہو گی۔
مزید یہ کہ بھٹکے ہوئے جانوروں کی تعداد کم کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس میں نس بندی اور مردانہ بانجھ کاری کے پروگرامز کو فروغ دینا، ذمہ دار پالتو جانور رکھنے کے حوالے سے تعلیمی مواد فراہم کرنا، اور جانوروں کی لاپرواہی اور بدسلوکی کے وجوہات کا حل تلاش کرنا شامل ہے۔

