افریقی سوروں کا مرض ابتدا میں خاص طور پر مشرقی جرمنی میں پایا جاتا تھا، لیکن اب یہ مزید مغرب کی طرف پھیل چکا ہے۔ اب تھورنگن، ہیسی، بایرن اور باڈن-وورٹیمبرگ میں بھی اس کے کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تھورنگن کے گوٹھا ضلع میں جب ایک شکاری نے مشتبہ خون کے دھبے رپورٹ کئے تو وائرس کا پتہ چلا۔ ڈاخاو اور سٹٹگارٹ کے آس پاس بھی اس بیماری کے پھیلاؤ کی اطلاع ملی ہے۔
ہیسی میں سوروں کے پالنے والے شدید پریشان ہیں۔ اس خطے میں بیماری کے پھیلاؤ کی وجہ سے سور کا گوشت بیچنے پر سخت پابندیاں لگ گئی ہیں۔ مویشی پالنے والے اپنی مارکیٹیں کھو رہے ہیں اور غیر فروخت شدہ جانوروں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ بعض تو اپنی بقا کو خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ جیسے ہی بیماری قریب آتی ہے برآمدات پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔
جرمنی میں شکاری بیماری کی تلاش اور روک تھام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہیں وحشی سوروں کا شکار کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے کیونکہ یہ جانور وائرس پھیلاتے ہیں۔ کچھ ریاستوں میں ہر مارے گئے سور کے لئے شکاریوں کو انعام بھی دیا جاتا ہے۔
مزید بہتر نگرانی کے لیے بھی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں مردہ وحشی سوروں کی وائرس کی جانچ کی جاتی ہے۔ خصوصی ٹیمیں بھی کام کر رہی ہیں جو مردہ جانوروں کے جسم تلاش کر کے نکالتی ہیں۔
وائر س کی تیزی سے پھیلاؤ مقامی انتظامیہ کے لیے بڑی تشویش کا باعث ہے۔ جہاں بھی وائرس ظاہر ہوتا ہے، عموماً فوری طور پر جنگلات اور کھیتوں تک رسائی پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ سوروں کی نقل و حمل پر بھی سخت نگرانی ہوتی ہے اور مردہ جانوروں کے جسموں کے انتظام کے حوالے سے اصول بنائے جاتے ہیں۔
افریقی سوروں کا مرض بنیادی طور پر جانوروں کے درمیان براہ راست رابطے سے پھیلتا ہے، لیکن یہ آلودہ کپڑے، گاڑیاں یا خوراک کے فضلے کی وجہ سے بھی پھیل سکتا ہے۔ اسی وجہ سے عوام کو کہا جا رہا ہے کہ قدرتی ماحول میں خوراک کے فضلے کو نہ چھوڑیں۔ خاص طور پر تفریحی علاقوں میں غیر ارادی آلودگی کے خطرات سے خبردار کیا جا رہا ہے۔

