یہ فیصلہ تقریباً چالیس سال سے جاری مسلح تصادم کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے، جو جزوی طور پر ترک سرزمین پر خود مختار کرد خطے کے قیام کی جدوجہد سے تعلق رکھتا ہے۔
پی کے کے نے تصدیق کی ہے کہ وہ اپنی مسلح جدوجہد ختم کر دے گا اور تنظیم کو ختم کرے گا۔ یہ فیصلہ طویل مدتی اندرونی مباحثوں کا نتیجہ ہے اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات کا ردعمل ہے۔ پی کے کے نے کہا ہے کہ اب وہ سیاسی جدوجہد پر توجہ مرکوز کرے گا، تاہم اس حوالے سے تفصیلات کم دستیاب ہیں۔
ہتھیار ڈالنے کے فیصلے میں بانی عبداللہ اوجلان کی اپیل کا بھی اثر تھا، جو 1999 سے قید میں ہیں۔ مبادی رابطہ کاروں کے ذریعے انہوں نے پی کے کے کو مسلح مزاحمت کو مکمل طور پر ترک کرنے کی ترغیب دی ہے۔
پی کے کے تسلیم کرتا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی ماحول میں اس کی مسلح مہم مزید قابل عمل نہیں رہی۔ اس کے علاوہ شام اور عراق میں کرد برادریوں میں تبدیلیوں نے بھی اس تحریک کو اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کیا۔
ترک حکومت نے اس اعلان پر ابھی تک باضابطہ جواب نہیں دیا۔ ماضی میں مذاکرات کے کئی اہتمام ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے انقرہ کے اس نئے موڑ پر ممکنہ ردعمل کے بارے میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا اس سے کردوں کے وسیع تر حقوق کے بارے میں بات چیت شروع ہوگی یا نہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ پی کے کے کے فیصلے کا خطے میں دیگر کرد گروہوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم فی الحال کوئی اشارہ نہیں کہ دوسری ملیشیا فوری طور پر اس قدم میں شامل ہوں گی۔ اس طرح اس فیصلے کا اثر صرف پی کے کے تک محدود رہے گا جب کہ کردوں کے وسیع مسائل پر اس کے اثرات ابھی پیش گوئی سے باہر ہیں۔
پی کے کے نے اعلان کیا ہے کہ وہ خود کو ایک سیاسی تنظیم کے طور پر دوبارہ تشکیل دے گا اور اپنی جدوجہد امن پسند سیاسی ذرائع سے جاری رکھے گا۔ یہ تبدیلی کیسے ہوگی اور کس قیادت میں ہوگی، ابھی واضح نہیں۔ پی کے کے نے اس نئی سیاسی شاخ کی ساخت یا مقاصد کے بارے میں کوئی ٹھوس تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ اپنے اعلان میں، پی کے کے نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ کردوں کے حقوق کے تحفظ میں کردار ادا کرے۔ یہ بات صرف فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کی ہے اور دیگر ذرائع نے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

