کُرد رہنما نے حال ہی میں کئی سالوں کے بعد پہلی بار جمہوری آزادی تحریک (DEM) کے ایک وفد سے ملاقات کی اجازت حاصل کی۔ مختلف ذرائع کے مطابق وہاں موجودہ سیاسی صورت حال اور پرامن حل تلاش کرنے کی ضرورت پر تفصیلی بات ہوئی۔
ترکی کے جنوب مشرقی حصے میں کُرد کئی دہائیوں سے خودمختاری کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ عراق اور شام کے شمال میں بھی کُرد گروہوں کی اپنی تنظیمیں اور سیاسی و عسکری رہنما ہیں۔ ترک PKK ان میں سے ایک ہے۔ خطے میں تقریباً 20 سال سے ایک خودمختار کُردستان علاقہ موجود ہے جس میں کچھ بین الاقوامی تعاون بھی ہے لیکن کوئی رسمی شناخت نہیں ہے۔ متعدد وعدوں اور قریبی تعلقات کے باوجود کوئی متحدہ کُردی حکمت عملی بہت کم ہے۔
DEM وفد کے ساتھ مبینہ بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں طرف ایک محتاط خوش بینی ہے کہ امن عمل کو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اندرون اور بیرون ملک کُرد کمیونٹی کا کردار دائمی کامیابی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔
کئی علاقائی خبری ادارے اوجلان کے بیانات میں نیا لہجہ دیکھتے ہیں۔ وہ PKK اور ترک ریاست کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری تنازعے کے خاتمے کے امکانات پر امید افزا ہیں۔ ترک حکومت نے ملاقات اور گفتگو کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ایک کُرد نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اوجلان PKK اور انقرہ کے درمیان "نزدیکی کے نئے مرحلے" کی گنجائش دیکھتے ہیں۔ مضمون میں بتایا گیا کہ انہوں نے طویل عرصے بعد اس قدر کھلے دل سے مکالمے کی پیش کش کی ہے۔ امکان کی شرائط کے بارے میں کوئی خاص تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اوجلان کی رضامندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ انقرہ حکومت گفتگو کو کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے۔
Hawar News کے ایک آرٹیکل میں اوجلان نے ترک حکومت کی "مسئلہ حل پر مبنی پالیسی" کے بارے میں کیا کہا، اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ وہاں یہ بھی سامنے آیا کہ اپنی الگ تھلگ قید کے باوجود وہ ممکنہ فیصلہ سازی میں شامل رہنا چاہتے ہیں۔
انگریزی زبان کے ترک اخبار Daily Sabah نے خاص طور پر اوجلان کی طرف سے "دہشت گردی سے پاک ترکی" کے موقف کی حمایت پر توجہ دی ہے۔ وہ نہ صرف مسلح تنازع ختم کرنے کے لیے تیار ہیں بلکہ وسیع تر سماجی مفاہمت پر بھی غور کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مفاہمت تب ہی کامیاب ہو سکتی ہے جب ’دیگر متعلقہ فریقین‘ بھی کُردوں اور ترک حکومت کے تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں۔
خبری ویب سائٹ Kurdistan24 اس سے کافی حد تک متفق ہے اور اوجلان کی "امن مذاکرات کے لیے آمادگی" کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ اس پرو کُرد ویب سائٹ کے مطابق مذاکرات کا باضابطہ آغاز تبھی ممکن ہوگا جب ترک حکومت تمام متعلقہ فریقین کی حفاظت کی ضمانت دے گی۔
اگرچہ ترک حکام نے ابھی تک پرہیز کا رویہ اختیار کیا ہے، تاہم ایسے اشارے موجود ہیں کہ مستقبل میں مکالمہ ناممکن نہیں۔ اوجلان کے بیانات اور ان کی طرف سے ’امن کی پہل‘ کے لیے حمایت ایک ابتدائی قدم ہونے کا تاثر دیتی ہے جو اymrali سے آ سکتی ہے۔ حکومتِ اردگان اس پر کس طرح رد عمل ظاہر کرے گی، یہ ابھی نہیں معلوم۔

