امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کا بغور جائزہ لے گی اس سے قبل کہ کوئی مزید اقدامات کیے جائیں۔ دیگر بین الاقوامی تجارتی اداروں میں بھی امریکہ نے کینیڈا کے قواعد کو چالاکی سے بائی پاس کرنے کی کوشش کی ہے جو غیر ملکی ڈیری درآمدات کو محدود کرتے ہیں۔
امریکی ڈیری صنعت امید کرتی تھی کہ NAFTA فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں برآمدات کے قواعد کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ انہیں کینیڈا کے ڈیری مارکیٹ تک رسائی آسان ہو سکے۔ اس فیصلے نے کینیڈا کی ڈیری مینجمنٹ کے نظام پر جاری طویل بحث کو مرکزی حیثیت دی، جہاں امریکہ کا دعویٰ تھا کہ یہ نظام آزاد تجارت کی راہ میں رکاوٹ اور مسابقت کو متاثر کرتا ہے۔
دوسری طرف کینیڈا کی ڈیری صنعت اس فیصلے کو اپنی منصفانہ تجارتی طریقہ کار کی تصدیق اور کینیڈا کے ڈیری مینجمنٹ نظام کے تحفظ کی اہمیت کے طور پر خوش آمدید کہتی ہے۔ یہ نظام، جسے سپلائی مینجمنٹ کہا جاتا ہے، ڈیری مصنوعات کی پیداوار کو محدود کرتا ہے تاکہ پیداوار کی زیادتی سے بچا جا سکے اور ڈیری فارمرز کے لیے مستحکم قیمت یقینی بنائی جا سکے۔
اس جیت کے ساتھ کینیڈا توقع کرتا ہے کہ اسے امریکہ کی طرف سے ضرورت سے زیادہ مسابقت سے تحفظ حاصل رہے گا۔ ماہرین کی رائے ہے کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی ڈیری تجارت پر بھی وسیع اثرات مرتب کر سکتا ہے، کیونکہ دیگر ممالک بھی اپنی ڈیری صنعت کے تحفظ کے لیے مشابہ اقدامات پر غور کر سکتے ہیں۔

