IEDE NEWS

لیبر پارٹی کے دوسرے اہم رہنما نے بھی استعفیٰ دے دیا؛ معتدل اینٹی-بریگزِٹ گروپ کا نقصان

Iede de VriesIede de Vries
ٹام واٹسن لیبر

برطانیہ میں لیبر پارٹی کے نائب رہنما ٹام واٹسن نے اچانک اپنے استعفیٰ کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ 12 دسمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے انتخابی میدان میں نہیں اُتریں گے۔ ان کا یہ رفتا ر پارٹی کے اندر معتدل دھڑے کے نقصان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

واٹسن اس گروپ کے سرکردہ رہنما سمجھے جاتے تھے جو برطانیہ کے یورپی یونین سے ممکنہ نکلنے کے خلاف تھے۔ اس اعتبار سے وہ پارٹی کے قائد جیریمی کوربن کے حریف بھی تھے۔ کئی معتدل پارٹی اراکین انہیں اس شخص کے طور پر دیکھتے تھے جو شدت پسند بائیں بازو کے کوربن دھڑے کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

ٹام واٹسن نے جیریمی کوربن کو لکھے گئے اپنے استعفیٰ نامے میں کہا ہے کہ وہ "ذاتی وجوہات کی بنا پر، سیاسی نہیں" سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ ستمبر میں انہوں نے ایک پارٹی کانفرنس میں ناقدین کی جانب سے اپنی کردار کو ختم کرنے کی کوشش کو برداشت کیا تھا۔ کوربن کے حامیوں نے ان کی پارٹی میں موجودہ پوزیشن کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ تجویز بعد میں واپس لے لی گئی۔

برطانیہ کی بائیں بازو کی لیبر پارٹی کے اندر یورپی یونین سے ممکنہ اخراج پر گہری تقسیم موجود ہے۔ واٹسن اس دھڑے سے تعلق رکھتے تھے جو پارٹی کو واضح طور پر اینٹی بریگزِٹ موقف اپنانے کا خواہاں تھا، لیکن وہ یہ جدوجہد ہار گئے۔ برطانوی میڈیا ان کے استعفیٰ کو معتدل لیبر آواز کے نقصان کے طور پر بیان کر رہا ہے۔ برطانوی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیبر اب اس خطرے کا سامنا کر رہی ہے کہ یورپ نواز نوجوان ووٹرز بڑی تعداد میں لبرل ڈیموکریٹس یا گرین پارٹی کی حمایت کر سکتے ہیں۔

لیبر پارٹی کا باضابطہ بریگزِٹ موقف دیگر پارٹیوں کے مقابلے میں کم واضح ہے۔ کوربن کی پارٹی بورس جانسن کے یورپی یونین معاہدے کو رد کر کے ایک نیا، چھوٹا سا بریگزِٹ معاہدہ چاہتی ہے۔ ایسے معاہدے کا حتمی فیصلہ برطانوی ووٹروں کو ریفرنڈم میں دینا چاہتی ہے۔ اور اگر ایسا معاہدہ مسترد ہوگیا تو ووٹرز کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ یورپی یونین میں رہنا پسند کریں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ کوربن کس صورت حال کے حق میں مہم چلائیں گے، اس لیے برطانوی ووٹرز کو ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ لیبر کے ساتھ ان کا تعلق کس سمت میں جائے گا۔

کوربن کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی انتخابات میں اپنی اکثریت حاصل کر کے جیتنا چاہتی ہے۔ وہ انتخابات سے پہلے لبرل ڈیموکریٹس یا دیگر کے ساتھ کسی قسم کی اتحاد کی حمایت نہیں کرتے۔ لبرل ڈیموکریٹس کی رہنما جو سوینسن نے اپنی انتخابی مہم کے آغاز پر واضح کیا کہ ان کی پارٹی کا ارادہ کوربن کو اقتدار میں مدد دینا نہیں ہے۔ کوربن اور سوینسن نے انتخابات کے بعد ایسی صورت حال کی وضاحت نہیں کی جہاں کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہ کرے اور برطانیہ میں دو پارٹیوں پر مبنی حکومت کی ضرورت ہو۔

واٹسن واحد برطانوی سیاستدان نہیں ہیں جو سیاست یا اپنی پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ کنزرویٹیوز اور لیبر دونوں پارٹیوں میں درجنوں پارلیمنٹیرین نے اپنی سیاست ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے بہت سے نے اپنی پارٹیوں کے اندر اور ووٹروں میں پائی جانے والی خراب اور مخالفانہ فضا پر اعتراض کیا ہے۔

سابق UKIP پارٹی اور فاراگ کی بریگزِٹ پارٹی کے اینٹی یورپی یونین گروپوں میں بھی کھلی کشمکش شروع ہو چکی ہے جہاں سابقہ اتحادی اور پارٹی کے ممبران کو بدنام اور عوامی توہین کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں سکولینڈ میں کنزرویٹیوز کے ایک نمایاں رہنما نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔

جان برکو نے بطور برطانوی پارلیمنٹ کے اسپیکر اپنی خدمات کے اختتام کے بعد اپنے ملک کے یورپی یونین سے ممکنہ خروج پر تنقید کی۔ انہوں نے غیر ملکی صحافیوں کے سامنے بریگزِٹ کو "اپنے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی بعد از جنگ غلطی" قرار دیا۔ برکو کو اسپیکر کے طور پر برطانوی سیاسی بحران کے دوران غیر جانبدار رہنا پڑا۔ بریگزِٹی حامیوں نے اکثر شکایت کی کہ انہوں نے مخالفین کا ساتھ دیا۔ برکو خود کہتے ہیں کہ وہ غیر جانبدار رہے اور پارلیمنٹ کے حقوق کا دفاع کیا۔

ٹیگز:
Brexit

یہ مضمون Iede de Vries نے لکھا اور شائع کیا ہے۔ ترجمہ اصل ڈچ ورژن سے خودکار طور پر تیار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین