لیبارٹری ٹیسٹ نے پیسچرائزیشن یا حرارت کی پروسیسنگ کے باوجود وائرس کا جینیاتی مواد دریافت کیا ہے۔ اب تک کی تحقیقات میں ماہرین کو تشویش ہوئی ہے: پانچ میں سے ایک نمونہ مرغی کے فلو وائرس A/H5N1 کے اجزاء پر مشتمل تھا۔
متاثرہ گایوں کی ایک عجیب بات یہ ہے کہ ان کی گردن میں وائرس کی مقدار زیادہ نہیں ہے، ڈینش ماہر لون سیمنسن کہتی ہیں۔ تاہم، ان کی دودھ کی پیداوار بھی حیرت انگیز ہے۔ یہ بہت گاڑھا دودھ ہوتا ہے اور اس میں وائرس بھرا ہوتا ہے۔ اسی لئے امریکہ میں انتباہات جاری کیے گئے ہیں کہ غیر پیسچرائزڈ دودھ اور دودھ کی مصنوعات نہ پئیں، لون سیمنسن کا کہنا ہے۔
اب تک امریکہ میں دو افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ اس کی وجہ سے جنوبی امریکہ کے چند ممالک نے عارضی طور پر امریکی گوشت کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ اب بھی واضح نہیں کہ جنگلی پرندے امریکہ میں گایوں کو یہ وائرس کیسے منتقل کر سکے۔ سائنس میڈیا سینٹر کے مطابق، امریکہ میں ہونے والی تمام واقعات کا واحد حوالہ موجود ہے۔ ممکنہ طور پر ایک گائے جس کے اوپر سوجن ہوئی ہوئی تھی، اس نے فارم میں دودھ نکالنے والی مشینوں یا ملازمین کے دستانوں کو آلودہ کر دیا۔
یہ مفروضہ اس مشاہدے سے تقویت پاتا ہے کہ یہ بیماری زیادہ تر تیزی سے پیٹ کے غدود میں بڑھتی ہے — جب کہ تنفس کے راستوں میں وائرس کی مقدار بہت کم پائی گئی ہے۔
لیکن پیٹ کے غدود میں وائرس کا زیادہ ہونا دیگر مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔ ’اس کا مطلب ہے کہ وائرس صرف دودھ کے ہر قطرے کے ذریعے ماحول میں نہیں پھیلتا بلکہ دودھ نکالنے کے تمام آلات بھی اس متعدی وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں‘، دی ویلٹ سے ایک انٹرویو میں شویملے کہتے ہیں۔ ایسی وسیع پیمانے پر آلودگی کو قابو پانا بہت مشکل ہے۔

