امریکی مویشی پالنے والوں نے سالوں سے قواعد کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے، لیکن وہ اس بات پر افسوس کریں گے کہ یہ بھی آئندہ خود اختیاری نظام رہے گا۔ صدر بائیڈن نے پہلے کہا تھا کہ وہ امریکی مارکیٹ میں پانچ بڑے گوشت کے اداروں کی طاقت کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔
فی الحال لیبلنگ کے قواعد کے تحت درآمد شدہ گائے کا گوشت، بشرطیکہ اسے امریکا کی کسی گوشت کی فیکٹری میں معمولی ترمیم جیسے کٹائی یا دوبارہ پیکنگ کی گئی ہو، 'میڈ ان دی یو ایس اے' کے طور پر لیبل کیا جا سکتا ہے۔ یہ امکان امریکا میں 2015 سے موجود ہے جب ہر مصنوعات پر ملکِ پیداوار کی لازمی پہچان کا نفاذ ختم کیا گیا، جو کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ تجارتی جھگڑے کے بعد ہوا۔
امریکی دکانوں میں میکسیکن، برازیلی اور آرجنٹائنی گائے کا گوشت عام پایا جاتا ہے جو اس ملک میں پیدا، پرورش یا ذبح نہیں ہوا بلکہ صرف کین میں بند کیا گیا ہوتا ہے۔ ’’امریکی صارفین توقع کرتے ہیں کہ جب وہ سپر مارکیٹ سے گوشت خریدیں تو لیبل پر درج دعوے بالکل درست ہوں‘‘، زرعی وزیر ٹام وِل ساک نے وضاحت میں کہا۔
ایک سابقہ تحقیق میں پتہ چلا تھا کہ تقریباً دو تہائی امریکی غلطی سے یقین رکھتے ہیں کہ مصنوعات کے تمام مراحل امریکا میں ہونے چاہئیں تبھی لیبل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی USDA کے تحقیق سے معلوم ہوا کہ صارفین ’پروڈکٹ آف دی یو ایس اے‘ کے دعوے والے گوشت پر زیادہ خرچ کرنے کو تیار ہیں۔
یو ایس کیٹل مین ایسوسی ایشن کے چیئرمین جسٹن ٹپ نے جواب میں کہا: ‘‘صارفین کو حق حاصل ہے کہ وہ جانیں ان کا کھانا کہاں سے آ رہا ہے، بس یہی بات۔’’
وزیر وِل ساک نے کہا کہ یہ تجویز اس بات کو یقینی بنائے گی کہ لیبلنگ کی ضروریات صارف کی توقعات سے بہتر مطابقت رکھیں اور قانون کی کسی کمی کو ختم کریں۔
لیکن صنعت کا ایک حصہ تجویز کردہ لیبلنگ کے حوالے سے مشکوک ہے۔ ’’صرف چند الفاظ شامل کرنے سے کوئی اضافی فائدہ نہیں ہوتا، خاص طور پر جب یہ غیر لازمی ہو۔ ہم ناقص سرکاری لیبل کو دوسرے ناقص سرکاری لیبل سے تبدیل کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتے‘‘، ان کا کہنا ہے۔

