اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پہلے ماسکو کا سفر کیا۔ وہاں انہوں نے ہفتے کو پوٹن سے ملاقات کی۔ یہ بات چیت تین گھنٹے سے زائد جاری رہی اور دونوں جانب سے اسے جامع قرار دیا گیا۔ تاہم، ملاقات کے بعد کوئی ٹھوس نتائج ظاہر نہیں کیے گئے۔
ایک دن بعد وٹکوف اور کشنر کیف گئے، جہاں وہ پہلی بار ایک ساتھ مذاکرات کے لیے پہنچے۔ وہاں انہوں نے زیلنسکی اور دیگر یوکرینی حکام سے ملاقات کی۔ یہ گفتگو ایک طویل عرصے کے بعد ہوئی جس میں جنگ ختم کرنے کے مذاکرات رک گئے تھے۔
یورپی ممالک
امریکہ اور یوکرین کی گفتگو کے بعد کیف میں ایک نئی بات چیت ہوئی جس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے قومی سلامتی کے مشیران نے بھی شرکت کی۔ وٹکوف نے مذاکرات کو جامع اور معنوی قرار دیا اور کہا کہ امریکی نمائندے اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت سے خوش ہیں۔
Promotion
تاہم، کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ زیلنسکی نے بعد میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ جنگ جاری رہے گی اور شاید سردیوں میں بھی جاری رہے گی۔ یوکرین اس لیے مزید امریکی حمایت کا طلبگار ہے، خاص طور پر سردیوں کے لیے۔
مذاکرات جاری رکھنے سے انکار نہیں
اس کے باوجود مذاکرات جاری رکھنے سے انکار نہیں کیا گیا۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین، امریکہ اور یورپی ممالک نے قریبی مستقبل میں دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔ اس ملاقات کا مقام ابھی طے نہیں پایا۔ امریکی نمائندوں نے امریکہ، یوکرین اور روس کے ممکنہ نئے مذاکرات کے امکان پر بات کی۔
وٹکوف اور کشنر کے دوروں کے دوران ماسکو اور کیف نے یہ بھی اتفاق کیا کہ وہ ایک دوسرے کے دارالحکومتوں پر عارضی فضائی حملے نہیں کریں گے۔ زیلنسکی نے پہلے حملوں کی وسیع تر معطلی کا مطالبہ کیا تھا۔ روس نے اس وسیع تر تجویز پر اتفاق نہیں کیا۔
مذاکرات کا دوبارہ آغاز
نئی امریکی سفارتی کوشش سے پہلے پوٹن نے محتاط انداز میں کہا تھا کہ وہ روس اور یوکرین کے مابین کوئی معاہدہ ہونے کے امکانات کو دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک، جن میں امریکہ اور چین بھی شامل ہیں، حل تلاش کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
اب تک وٹکوف اور کشنر کے دورے نے سفارتی بات چیت کی بحالی میں مدد دی ہے۔ زیلنسکی نے مذاکرات کی طویل معطلی کے بعد اس کو مثبت قرار دیا۔ اگلی بات چیت کب، کہاں اور کس شکل میں ہوگی، ابھی اس کی اطلاع نہیں دی گئی۔

