یہ تبدیلیاں دونوں ممالک کے درمیان دس سال پر محیط تجارتی تنازع کا حصہ ہیں جو کہ اصل ملک کی نشاندہی (V-COOL) کے حوالے سے ہے۔ کینیڈا اپنی طرف سے قوانین کے ذریعے کئی سالوں سے امریکہ سے دودھ کی مصنوعات کی درآمد کو روکتا آیا ہے۔
اس وقت کینیڈا کے مویشی پالک اپنے جانوروں کو امریکہ بھیج کر وہاں ذبح کرا سکتے ہیں، تاکہ گوشت کو 'Made in the USA' کے طور پر فروخت کیا جا سکے۔ 2026 سے صرف وہی جانور جن کی پیدائش، پرورش، ذبح اور پروسیسنگ امریکہ میں ہوئی ہو، وہی اس لیبل کے قابل ہوں گے۔
امریکی مویشی پالک عالمی تجارتی تنظیم WTO کے حالیہ حکم کی توسیع پر خوش ہیں۔ امریکی وزارت زراعت (USDA) نے اس ہفتے نئے حتمی قواعد کا اعلان کیا ہے۔
وزیر زراعت ٹام وِل ساک کہتے ہیں کہ یہ قاعدہ صارفین کے لئے وضاحت فراہم کرے گا کہ گوشت کہاں سے آیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر زراعت اور تجارت نے اس منصوبے پر اعتراضات ظاہر کیے ہیں، جن کے مطابق یہ شمالی امریکی مارکیٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔

