میکڈونلڈز کے مطابق، گوشت تیار کرنے والی کمپنیوں نے کئی سالوں تک گائے کے گوشت کی قیمتیں مصنوعی طور پر بلند رکھی ہیں، جس کی وجہ سے صارفین کو مہنگے ہیمبرگرز خریدنے پڑے۔
میکڈونلڈز کے مطابق ایسی کارروائی 2015 سے 2022 کے دوران ہوئی ہے اور اس سے فاسٹ فوڈ چین اور دیگر خریداروں کو ایک ارب ڈالر سے زیادہ اضافی لاگت برداشت کرنی پڑی۔
میکڈونلڈز کے الزامات دیگر فوڈ انڈسٹری کی کمپنیوں کی سابقہ شکایات سے میل کھاتے ہیں۔ گوشت پروسیسرز جیسے کہ Sysco اور Wendy's نے بھی اسی طرح کے مقدمات دائر کئے ہیں۔ یہ کیسز امریکہ میں ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہیں جہاں کمپنیاں مزید مونوپولی تجارتی طریقوں کے خلاف قانونی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
میکڈونلڈز کی شکایت میں سب سے قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ امریکہ کی گوشت کی صنعت کے چند سب سے طاقتور کھلاڑیوں کے خلاف ہے۔ ان کمپنیوں کا گوشت کی قیمتوں پر بہت بڑا اثر ہے، نہ صرف امریکہ میں بلکہ دنیا بھر میں۔ اگر میکڈونلڈز یہ مقدمہ جیت جاتا ہے تو یہ گوشت کی صنعت کے کام کرنے کے طریقوں پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ اس سے صارفین اور کاروبار دونوں کے لیے گوشت کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
ملزمان نے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان دعووں کا دفاع کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی قیمتیں مارکیٹ کی صورتحال پر منحصر ہیں، جیسے کہ چارہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور وبائی امراض اور سپلائی چین میں خلل جیسے بیرونی عوامل۔

