گزشتہ بیس سالوں میں دنیا بھر میں بیف کی پیداوار ہلکی سی کمی ہوئی ہے اور سور کا گوشت بڑی مقدار میں کم ہوا ہے، لیکن مرغی کے گوشت کی کھپت دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تین آسٹریلوی یونیورسٹیوں کی تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امیر مغربی ممالک میں گوشت کی زیادہ سے زیادہ کھپت ممکنہ طور پر پہنچ چکی ہے، جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں یہ ابھی بڑھ رہی ہے۔
دو ہزار سے انیس تک گوشت کی کھپت میں دنیا بھر میں بڑے تبدیلیاں آئیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوا کہ بیف کی کھپت دو ہزار سے انیس کے دوران 3.9% کم ہو کر 22.8% سے 18.9% تک گر گئی۔
چین میں فی کس سور کا گوشت ہلکی سی بڑھ گیا اور ویتنام میں تو خاصا اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر 19 ممالک میں فی فرد سور کے گوشت کی کھپت میں اضافہ ہوا جبکہ 7 ممالک میں یہ کمی ہوئی۔
اس وقت مرغی کا گوشت دنیا بھر میں سب سے مقبول ہے (10% سے 15% تک بڑھ گیا)، اس کے بعد سور کا گوشت، بیف اور پھر بھیڑ اور بکری کا گوشت آتا ہے۔ زیادہ تر تحقیقی ممالک (35 میں سے 26) میں گوشت کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوا، جس میں سب سے زیادہ اضافہ روس، ویتنام اور پیرو میں دیکھا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ 13 ممالک میں فی فرد مرغی کے گوشت کی کھپت دگنی سے زیادہ ہو گئی۔
کل گوشت کی کھپت میں سور کے گوشت کا حصہ بیس سالوں میں کم ہوا ہے۔ ویتنام اور چین میں اس وقت سور کا گوشت مجموعی کھپت کا دو تہائی تھا، لیکن اب یہ آدھے تک گر چکا ہے۔ اگرچہ آسٹریلوی تحقیق میں افریقی سور کا بخار سبب کے طور پر نہیں بتایا گیا، تاہم دستیابی میں کمی کو اس کمی کی وجہ سمجھا جاتا ہے۔
کئی ممالک میں بعض گوشت کی اقسام کی کھپت اپنی چوٹی پر پہنچ گئی لگتا ہے، اور تین ممالک (نیوزی لینڈ، کینیڈا اور سوئٹزرلینڈ) نے اس مقام کو عبور کر لیا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں مرغی کے گوشت کی کھپت وقت کے ساتھ بڑھی جبکہ بیف اور بھیڑ/بکری کے گوشت کی کھپت کئی ممالک میں کم ہوئی۔
چھ ممالک میں کل گوشت کی کھپت میں مجموعی کمی دیکھی گئی۔ سب سے نمایاں کمی نیوزی لینڈ اور سوئٹزرلینڈ میں ہوئی۔ جن ممالک میں سور کے گوشت کی کھپت میں کمی آئی ہے، وہاں تبدیلی چھوٹی تھی، سوائے کینیڈا کے، جہاں دو ہزار میں فی فرد 22.6 کلو گرام تھی اور انیس میں 16.3 کلو گرام رہ گئی۔
تحقیق سے مزید معلوم ہوا کہ گوشت کی کھپت میں اضافہ خاص طور پر ان ممالک میں ہوتا ہے جن کی معیشتیں بڑھ رہی ہیں، مگر یہ لامحدود نہیں ہے۔ امیر ممالک میں صارفین کا رویہ مختلف ہے۔ قومی آمدنی فی فرد چالیس ہزار ڈالر کے قریب پہنچنے پر ایسی تبدیلی آتی ہے کہ اقتصادی خوشحالی میں اضافے کے باوجود گوشت کی کھپت میں اضافہ نہیں ہوتا۔
محققین نے جب قومی مجموعی پیداوار (GDP) فی فرد کو گوشت کی کھپت سے جوڑنے کی کوشش کی تو اس بات کا ثبوت ملا کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں آمدنی بڑھنے کے ساتھ گوشت کی کھپت بڑھتی ہے، لیکن زیادہ آمدنی والے ممالک میں اس قسم کا تعلق نہیں پایا گیا۔

