انٹرنیشنل گرین کونسل (IGC) نے روس کے جنگی حملے کی سخت مذمت کی ہے اور یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یہ آزاد تنظیم جو اناج برآمد کرنے والے ممالک کی نمائندگی کرتی ہے، ماسکو سے فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں بند کرنے اور اپنی فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یوکرین کے حق میں واضح موقف اختیار کرنے کی وجہ سے گرین کونسل مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ گندم، جو، اور سورج مکھی کی عالمی برآمدات میں روس کا بڑا حصہ ہے، جو IGC میں قابلِ ذکر حصہ فراہم کرتا ہے۔ روس کو خارج کرنے سے ممکنہ طور پر آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ IGC کے فصل اور فراہمی کے توازن کو عالمی سطح پر سیاستدانوں اور مارکیٹوں کے فیصلہ سازی کے لیے ایک اہم بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
IGC نے دیگر تمام ممالک سے درخواست کی ہے کہ زرعی منڈیوں کو کھلا رکھا جائے اور برآمدات پر کوئی پابندیاں نہ لگائی جائیں۔ یوکرین کے زرعی وزیر میکولا سولسکی نے واضح کیا کہ تقریباً 3.5 ملین ہیکٹر اراضی لڑائی کی وجہ سے استعمال نہیں ہو سکتی۔ اس لیے یہ غیرممکن ہے کہ یہ علاقے 2022 کی فصل میں حصہ لیں۔
یوکرینی وزیر نے اپنے لیتھونین ساتھی کیستوٹس ناوٹسکاس کے ساتھ پولینڈ کے ذریعے ریل کے ذریعے لیتھونین بحیرہ بالٹک کے بندرگاہوں تک زرعی برآمدات پر بات چیت کی ہے۔ اس قسم کی نقل و حمل نہ صرف یوکرینیوں کو نئے تجارتی راستے کا فائدہ دے گی بلکہ خالی ریڑھیوں کو واپس آتے ہوئے ایندھن اور کھاد لے جانے کا موقع بھی ملے گا۔ امن کے وقت یوکرین اپنی زرعی برآمدات کا 98 فیصد کالا سمندر کے بندرگاہوں کے ذریعے کرتا ہے جو اب روسیوں نے بند کر دی ہیں۔
پولینڈ کے وزیر زرعی ہینریک کووولزک کے مطابق پولینڈ مشرقی سرحد پر ’خشک بندرگاہ‘ اور ایک ٹرانس شپمنٹ اسٹیشن بنانے پر کام کر رہا ہے تاکہ ریل کی گنجائش میں اضافہ کیا جا سکے۔ یوکرین نے رومانیہ سے بھی بات چیت کی ہے تاکہ دریائے ڈانوب اور رومانیہ کے کالا سمندر کے بندرگاہوں کا ممکنہ استعمال ممکن بنایا جا سکے۔

