نی덴لینڈ کی پابندی مغربی کنارے اور قابض گولان ہائی پلینز کے اسرائیلی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد، خرید و فروخت پر لاگو ہوگی۔ ان خدمات کی فراہمی جو اس تجارت کو ممکن بناتی ہیں، نئی پابندیوں کے تحت آتی ہیں۔ اقدامات کو ختم کرنے کی کوششیں بھی ممنوع ہیں۔
دی ہیگ نے ابتدائی طور پر مشترکہ یورپی درآمدی پابندی کی کوشش کی تھی، لیکن یورپی یونین میں اس کے لیے کافی حمایت نہیں ملی۔ کئی یورپی ممالک احتیاطی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث فی الحال مشترکہ یورپی نقطہ نظر باقی نہیں آیا۔
غیر قانونی
نی덴لینڈ اس اقدام سے آئرلینڈ، بیلجیئم اور سپین کے ساتھ شامل ہوتا ہے، جنہوں نے بھی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کی تجارت پر پابندیاں لگائی ہیں۔ ساتھ ہی کئی ممالک کی طرف سے ایک مشترکہ یورپی معاہدے کی اپیل بھی کی جارہی ہے۔
Promotion
نی덴لینڈ کی حکومت کے مطابق یہ اقدام اس بات کو روکنے کے لیے ہے کہ نی덴لینڈ ایسی صورتِ حال میں اقتصادی طور پر تعاون فراہم کرے جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔ حکومت اس طرح اپنے بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کرنا چاہتی ہے۔
پابندی میں شامل مصنوعات میں زرعی مصنوعات جیسے ایووکاڈو، کھجور، سنگترے، انگور اور تازہ جڑی بوٹیاں شامل ہیں۔ قابض گولان ہائی پلینز کی شراب بھی اس نئی تجارتی پابندی کے تحت آتی ہے۔
نہ براہِ راست نہ بالواسطہ
یہ پابندیاں صرف نی덴لینڈ میں درآمد پر ہی نہیں بلکہ نی덴لینڈ کی کمپنیوں کی بیرون ملک تجارت پر بھی لاگو ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی تجارت کی مدد کرنے والی ثالثی اور دیگر تجارتی خدمات بھی ممنوع ہیں۔ یہ اقدامات عموماً تین سال کی مدت کے لیے نافذ ہوں گے۔
غیر سرکاری تنظیم گلوبل ایچو کی ایک رپورٹ کے مطابق نی덴لینڈ اسرائیلی بستیوں کی زرعی مصنوعات کی برآمد میں تقریباً ایک تہائی اور یورپی یونین کو ان کی کل برآمدات کا تقریباً نصف حصّہ تھا۔
تباہ کاری
اس ہفتے کے آخر میں قابض مغربی کنارے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اسرائیلی بستی بسانے والوں نے دو مساجد اور کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی اور کئی دیہاتوں میں تباہ کاری کی۔ قصرا میں ایک زیر تعمیر مسجد کو نقصان پہنچایا گیا اور اس پر گریفیٹی بھی کی گئی۔

