خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق امریکی، ہالینڈ اور جاپانی اہلکار واشنگٹن میں چینی کمپنیوں کو ایسی مشینری کی برآمدات پر نئی پابندیوں پر متفق ہو گئے ہیں۔
دو ہفتے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک رُٹے پر زور دیا تھا کہ ہالینڈ کی ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنی ASML چین کو ڈیپ الٹراوائلٹ لیتھوگرافی مشینوں کی فروخت روک دے۔ جاپان بھی اسی طرح نیکون کو ایسی برآمدی پابندیاں عائد کرے گا۔
ان تینوں ممالک میں وہ سب سے بڑی کمپنیاں موجود ہیں جو ایسی مشینری بناتی ہیں۔ امریکی صنعت کاروں نے شکایت کی ہے کہ اکتوبر میں بائیڈن حکومت کی جانب سے یکطرفہ برآمدی پابندی نے ان کے غیر ملکی مقابلین کو چینی مارکیٹ میں کام جاری رکھنے کا موقع دیا ہے۔
دسمبر میں بیجنگ نے عالمی تجارتی تنظیم میں امریکہ کی طرف سے عائد کردہ برآمدی کنٹرول کو ختم کرنے کے لیے شکایت دائر کی تھی۔ ASML کے CEO نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی مہم کے غیر ارادی نتائج نکل سکتے ہیں۔
حال ہی میں ASML کے سربراہ پیٹر ویننک نے کہا کہ امریکی مداخلت کی وجہ سے چائنا آخرکار خود اعلیٰ درجے کے چپس کے لیے اپنی ٹیکنالوجی تیار کر سکتا ہے۔

