یہ فیصلہ اس مدت کے بعد آیا ہے جس دوران نیدرلینڈ نے کمپنی کی نیدرلینڈ میں قائم شاخ پر کنٹرول حاصل کیا تھا، کیونکہ قیمتی ٹیکنالوجی اور پرزے چین منتقل ہونے کے خدشات تھے۔ اس پر بیجنگ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
چین نے اس کے بعد چینی Nexperia فیکٹری سے چپس کی برآمد روک دی، جس کے فوری اثرات ایسے کاروباروں پر پڑے جو ان پرزوں پر انحصار کرتے ہیں۔ خاص طور پر یورپی کار ساز کمپنیوں کو الیکٹرانک اجزاء کی فراہمی میں غیر یقینی اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بہت بڑھ گئی۔ نیدرلینڈ کی مداخلت کو چین نے دشمنی کی ایک قدم کے طور پر دیکھا، جبکہ ڈن ہیگ نے اس اقدام کو تکنیکی شعبے کے لیے خطرات کو کم کرنے کے لیے ضروری قرار دیا۔ صورتحال ایک سیاسی اور اقتصادی تنازعے کی شکل اختیار کر گئی جس نے یورپ کی بڑی کمپنیوں کو براہ راست متاثر کیا۔
نیدرلینڈ نے اب اقدام معطل کر کے مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ متعدد ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ چین نے پہلے قدم کے طور پر خوش آمدید کہا، مگر بیجنگ نے زور دیا کہ تعلقات کی حقیقی بحالی کے لیے مکمل واپسی ضروری ہے۔
اسی دوران نیدرلینڈ کوشش کر رہا ہے کہ چپس کی فراہمی طویل عرصے تک بند نہ رہے۔ چین کی برآمدی پابندی نے کار صنعت کی سپلائی چینز پر دباؤ ڈالا ہے، جو مخصوص اجزاء پر منحصر ہے جو کہیں اور مشکل سے دستیاب ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ نیدرلینڈ کے اس اشارے سے فراہمی جلد از جلد دوبارہ شروع ہو سکے گی۔
اس مقصد کے لیے ایک نیدرلینڈ کا سرکاری وفد بیجنگ میں ہے۔ متعدد ذرائع کا کہنا ہے کہ وہاں دونوں ممالک کے درمیان دو دور کی گفتگو ہو رہی ہیں۔ یہ بات چیت تنازعہ کو کم کرنے اور اس کے بڑھنے کو روکنے میں مدد دے گی۔
معاملہ واضح ہے: نیدرلینڈ چاہتا ہے کہ چین چپ کی برآمد پر پابندی ختم کرے، جبکہ چین توقع رکھتا ہے کہ نیدرلینڈ مداخلت کو مکمل طور پر واپس لے لے۔ دونوں فریق اس نقصان سے آگاہ ہیں جو اس تنازعے کے جاری رہنے سے ہو سکتا ہے، خواہ وہ اقتصادی ہو یا سیاسی۔
اگرچہ معطلی کو حسن نیت کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے، مذاکرات کا نتیجہ غیر یقینی ہے۔ صورتحال کشیدہ ہے کیونکہ دونوں ممالک دباؤ میں ہیں: نیدرلینڈ کاروباری شعبے کی طرف سے اور چین اپنے اسٹریٹجک مفادات کی بنا پر۔

