نیدرلینڈ شمال مشرقی شام میں فوجی کارروائی جاری رہنے تک ترکی کو ہتھیاروں کی برآمدات کی اجازت نہیں دے گا۔ نیدرلینڈ نے اب تک زیادہ تر ہتھیاروں کے پرزے فراہم کیے ہیں لیکن اب وہ اس کی بھی فراہمی بند کر رہا ہے۔ پچھلے سال نیدرلینڈ نے ترکی کو 29 ملین یورو مالیت کے ہتھیار برآمد کیے تھے۔
نیدرلینڈ پیر کو یورپی یونین کے ایک ہنگامی اجلاس میں دیگر ممالک سے بھی ترکی کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنے کو کہے گا۔ وزیر خارجہ بلوک پیر کو لگژمبرگ میں یورپی یونین کے ساتھیوں سے ترکی اور شام کی صورتحال پر گفتگو کریں گے۔
اس سے قبل نیدرلینڈ کی وزیر برائے خارجی تجارت سگریڈ کاگ نے کہا تھا کہ پچھلے سال ترکی کی پانچ درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔ کاگ نے تب کہا تھا کہ وہ یکطرفہ ہتھیاروں کی پابندی کی حامی نہیں ہیں، لیکن اب یہ نیدرلینڈ کی سرکاری پوزیشن بن چکی ہے۔
وزیر بلوک ابتدا میں پیر کو لگژمبرگ میں وزارتی اجلاس میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ وہ ہندوستان کے دورے کے لیے جانے والے تھے جہاں نیدرلینڈ کے شاہی جوڑے سرکاری دورہ کریں گے۔
گذشتہ روز فن لینڈ نے بھی ترکی کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

