نیدرلینڈز کے سفارت خانے نے میکسیکو میں نیدرلینڈز کی پانی کی کمپنیوں کے زرعی شعبے میں مواقع کے حوالے سے ایک تحقیق کروائی ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ اس کے نتائج جلد ہی شائع کیے جائیں گے۔
نیدرلینڈز کی حمایت سے اس قسم کی تحقیقات پہلے مراکش اور انڈونیشیا میں بھی کی گئی ہیں۔
میکسیکو میں آخری بڑی خشک سالی سن 2011 میں ہوئی تھی۔ اس وقت کنہوا کے صوبے میں خشک سالی کی وجہ سے قحط کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔ ملک بھر میں پانی کے ذخائر ہفتوں سے تاریخ کی سب سے کم سطح پر ہیں۔ شمال اور وسطی علاقوں کے درجنوں بڑے پانی کے ذخائر کی سطح 25% سے بھی کم، یعنی انتہائی نچلی سطح تک پہنچ چکی ہے۔
Promotion
کچھ شہروں میں پانی کی فراہمی میں کمی ہو رہی ہے، جیسا کہ میکسیکو سٹی میں نیدرلینڈز کے سفارت خانے کے زرعی شعبے نے رپورٹ کیا ہے۔
ملک کے بعض حصوں میں زرعی پیداوار بھی خطرے میں ہے، جیسے شمالی صوبہ سِنالوا میں مکئی کی پیداوار۔ اور شمالی صوبہ کوہیویلا میں خشک سالی سے مویشیوں کی اموات ہو رہی ہیں، جیسا کہ ہسپانوی اخبار ایل پائیس نے رپورٹ کیا ہے۔
اس صورتحال کی بنیادی وجہ کم بارش ہے۔ پچھلے چھ مہینوں میں معمول کے مقابلے میں 20% کم بارش ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کے بارشوں کے موسم میں بھی معمول سے کم بارش ہوئی تھی، جس کی وجہ موسمی مظہر "لا نینا" ہے۔ ہر تین سے سات سال بعد لا نینا بحرالکاہل میں سرد سمندری لہریں اور میکسیکو اور جنوبی ریاستہائے متحدہ پر کم بادل بننے کا سبب بنتی ہے۔
موجودہ خشک سالی صرف لا نینا کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے بھی ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، شہروں کی توسیع، اور زرعی زمین کا بڑھنا ماحولیاتی نظام خصوصاً جنگلات اور آبی علاقوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق میکسیکو میں مؤثر پانی کے انتظام اور نئی آبی تکنالوجیوں کی تحقیق کا فقدان بھی ہے۔

