گذشتہ ہفتے وارسا کی ایک عدالت نے دونوں دائیں بازو کے نشریاتی چینلز کے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ میڈیا کونسل نے لائسنس جاری کرتے وقت احتیاط نہیں برتی۔ حکم کے مطابق کونسل نے حقیقی معیارات کی بجائے ارادے کے بیانات پر انحصار کیا۔
لائسنس کی مخالفت Polskie Wolne Media نے کی جو مقابلے میں موجود TV Polska 24 کے مالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لائسنس کی منظوری غیر قانونی تھی۔ عدالت نے ان کی بات کو تسلیم کیا اور مقدمے کے اخراجات میڈیا کونسل پر عائد کیے۔
یہ چینلز اپنی قدامت پسند رپورٹنگ اور سابق پولش حکومت کی کھلی حمایت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ روزنامہ Rzeczpospolita کے مطابق یہ دونوں چینلز سابق یورپی کمشنر ڈونلڈ ٹسک کی حالیہ حکومت پر تنقید کے اہم پلیٹ فارم تھے۔ نشرکاری حقوق کی اچانک منسوخی سے میڈیا پالیسی کی سیاسی آزادی پر سوالات اٹھے ہیں۔
گزشتہ جمعرات کو ٹی وی پر پہلے انتخابی مباحثے میں اختلافات ہوئے۔ متوقع دو امیدواروں کی بجائے آٹھ امیدواروں نے حصہ لیا، جو دو قومی نیٹ ورکس پر نشر کیا گیا۔ ان دونوں قدامت پسند چینلز کو اسٹوڈیو میں اجازت نہیں تھی بلکہ انہیں باہر میدان پر پہلے سے ریکارڈنگ کرنی پڑی۔
عدالتی فیصلہ کے ردعمل میں ان چینلز کے پروگرامز کے سربراہان نے سخت احتجاج کیا۔ ٹوی ریپبلیکا کے مشا رچون نے اسے "آزادی صحافت پر حملہ" قرار دیا جبکہ ان کے چیئرمین تومسز سکےویز نے پولش عدلیہ پر سیاسی جانبداری کا الزام لگایا۔
پولش حکومت سیاسی مقاصد کی تردید کرتی ہے۔ Polskie Radio 24 کے بیان میں ایک ترجمان نے کہا کہ بندش لائسنسنگ عمل میں قانونی خلا کی وجہ سے ہے اور اس فیصلے کا تعلق عدالت سے ہے نہ کہ سیاست سے۔
بین الاقوامی مبصرین بھی پریشان ہیں۔ Reporters Without Borders کے مطابق یہ فیصلہ پولینڈ میں آزاد صحافت کے لیے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں دیگر میڈیا کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔
چینلز فی الحال نشرکاری جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اپیل سپریم ایڈمنسٹریٹو کورٹ میں دائر کی جا رہی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ لائسنس مستقل طور پر منسوخ ہوں گے یا نہیں۔

