اقوام متحدہ کی تنظیم UNEP کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ ایک ارب سے زائد کھانے کے کھانے ضائع ہوتے ہیں۔ اس سے خوراک کی سپلائی مزید متاثر ہو رہی ہے جو پہلے ہی جنگوں، موسمی تبدیلی اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے دباؤ میں ہے۔
UNEP کے مطابق 2022 میں 1.05 ارب ٹن خوراک کا ضیاع ہوا (جس میں غیر خوردنی حصے بھی شامل ہیں)۔ کل خوراک کے ضیاع کا 60 فیصد حصہ دنیا بھر کے گھریلو صارفین کا ہے، 28 فیصد خوراک کی فراہمی کا اور 12 فیصد خردہ فروشوں کا۔ UNEP کے مطابق یہ بات افراد اور خاندانوں کی سطح پر شعور اور رویوں میں تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ تمام سطحوں پر کارروائی کی اپیل کرتی ہے، حکومتوں اور کمپنیوں سے لے کر انفرادی صارفین تک۔ حال ہی میں یورپی یونین کے ممالک نے خوراک کے ضیاع کے خلاف اپنی کوششیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران یورپی یونین کے ممالک پر یہ اختیار دیا گیا ہے کہ آیا وہ زراعت اور باغبانی کے شعبے میں پیداواری عمل پر بھی اس کا اطلاق کریں یا نہیں۔
خوراک کے ضیاع کے مسئلہ کے علاوہ، خوراک کی کمی کی صورت حال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ جہاں بہت بڑی مقدار میں خوراک ضائع ہو رہی ہے، وہیں دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اب بھی بھوک سے متاثر ہیں۔ UNEP کے مطابق اس سے عالمی خوراکی نظام کی انصاف پسندی اور پائیداری پر سوالات اٹھتے ہیں۔
خوراک کا ضیاع عالمی معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے اور موسمی تبدیلی، قدرتی ماحولیاتی نقصان اور آلودگی کو بڑھاوا دیتا ہے، حالانکہ UNEP یاد دلاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف امیر ممالک کا نہیں ہے۔ مختلف آمدنی والے ممالک میں عام طور پر ہر فرد کے حساب سے خوراک کی ضیاع کی مقدار ایک جیسی ہے۔
رپورٹ میں خوراک کے ضیاع اور کمی کو حل کرنے میں ٹیکنالوجی اور جدت کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ بہتر ذخیرہ کرنے کی تکنیکوں، مؤثر تر تقسیم کے نظام، اور ایسے ایپس کے استعمال سے جو صارفین کو خوراک کے ضیاع کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، نمایاں بہتری حاصل کی جا سکتی ہے۔
"خوراک کا ضیاع ایک عالمی سانحہ ہے۔ دنیا بھر میں خوراک کے ضیاع کی وجہ سے لاکھوں لوگ آج بھوکے رہیں گے،" UNEP کی ڈائریکٹر اینگر اینڈرسن نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا۔

