یورپ کے جنوب مشرق میں مسلسل خشک سالی کی وجہ سے روسی اور یوکرینی زراعت کو مسائل کا سامنا ہے۔ روسی کسانوں کو فوری طور پر بارش کی ضرورت ہے۔ اب تک انہیں کئی علاقوں میں خشک زمینوں میں سردیوں کی گندم بوتی پڑی ہے۔ یوکرین کی صورتحال تو اور بھی زیادہ نازک ہے۔
یوکرینی وزارتِ اقتصادی امور کا کہنا ہے کہ شدید خشک سالی کی وجہ سے زیادہ تر علاقوں میں کسان 2021 کی فصل کے لیے سردیوں کی گندم بوتنا شروع بھی نہیں کر پائے ہیں۔
یوکرینی زرعی ایجنسی APK-Inform کے مطابق زمین میں نمی نہیں ہے، اس لیے اب بوائی کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی لیے اس سال یوکرین میں بوائی بہت دیر سے ہوگی اور امکان ہے کہ کی گئی زمین کی مقدار بھی بہت کم ہوگی۔
یوکرینی وزارتِ اقتصادی امور کا کہنا ہے کہ سردیوں کی گندم کی زمین کا رقبہ گزشتہ سال تقریباً 6.7 ملین ہیکٹر سے کمی ہو کر اس سال 6.1 ملین ہو جائے گا۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق 28 ستمبر تک فارموں نے اندازاً زمین کا صرف 25 فیصد یا 1.5 ملین ہیکٹر ہی بویا تھا۔
حال ہی میں روسی گندم جس میں 12.5 فیصد پروٹین ہے، اسے سیاہ سمندر کے بندرگاہوں سے ہر ٹن 233 امریکی ڈالر کی قیمت پر برآمد کیا گیا۔ یہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 2 ڈالر کم ہے۔ یورپی مستقبل کی مارکیٹ میں بھی گندم کی قیمتیں 3 یورو کم ہو گئی ہیں۔ اس کی وجہ روسی برآمدی قیمتوں میں معتدل کمی ہے۔
روسی وزارت زراعت نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران اپریل سے جون تک نافذ رہنے والا اناج کی برآمد پر کوٹہ نظام اس سال کی بڑی فصل کے باوجود جاری رکھا جائے گا۔ وزارت نے کہا کہ اناج کی برآمدی کوٹہ جون 2021 تک لاگو رہے گا۔
تاہم وزارت نے ممکنہ کوٹہ کے حجم کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی معلومات کے مطابق جنوری تا جون 2021 کے لیے کوٹہ تقریباً 20 ملین ٹن اناج ہو سکتا ہے۔ روس دنیا کا سب سے بڑا گندم برآمد کنندہ ہے اور اس سال یہ امکان ہے کہ 2017 کی ریکارڈ ساز فصل کے بعد یہ دوسری بڑی فصل ہوگی۔

