یو ای ممالک کے وزارت خارجہ کے وزراء پیر کو لکسمبرگ میں شام میں ترک فوجی کارروائی کے سبب پیدا شدہ بحران کے “تمام پہلوؤں” پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس مسئلہ پر ہفتے کے آخر میں برسلز میں یورپی یونین کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں بھی بات چیت ہوگی۔
28 رکن ممالک نے بدھ کی شام اچانک اور تیز رفتاری کے ساتھ ایک “بلکل واضح” موقف اختیار کیا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ترکی فوری طور پر اپنی کارروائی بند کرے اور شام کے تنازع کا صرف سیاسی حل ہے۔ ترک کارروائی داعش کے خلاف جنگ کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان چاہتے ہیں کہ یورپی یونین شام میں ترک کارروائی پر اپنی تنقید واپس لے لے۔ اگر یورپی یونین ترک کارروائی کو قبضے کے طور پر قرار دیتی ہے تو وہ شام سے آئے مہاجرین کو جو اس وقت ترکی میں ہیں، یورپ بھیجنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ ترکی میں اندازاً 3.6 ملین شامی مہاجرین رہائش پذیر ہیں جو اپنے ملک کی جنگ سے فرار ہوئے ہیں۔
ہالینڈ کی کابینہ شمالی شام میں ترک حملے کے بعد ترکی پر پابندیاں لگانے کو مسترد نہیں کرتی، یہ بات وزیر سگرید کاگ نے دوسری اسمبلی میں کہی۔ وہ چاہتی ہیں کہ یہ پابندیاں اتحادی تعلقات کے تناظر میں لگائی جائیں۔
کابینہ اس بات پر بھی متفق ہے کہ پارلیمنٹ کی درخواست کے مطابق نیٹو کونسل کو فوری طور پر ترکی کی کارروائی پر ہنگامی اجلاس بلانا چاہیے۔ کاگ (وزیر تجارت اور ترقیاتی تعاون) نے اسمبلی میں وزیر خارجہ اسٹیف بلاک کی جگہ پرسماں کیا جو بیرون ملک ہیں۔
ہالینڈ اس وقت ترکی کے ساتھ فوجی تعاون معطل نہیں کرنا چاہتا۔ طرز عمل “قدم بہ قدم” ہوگا، کاگ نے کہا۔ وہ ابھی اسے بہت دور لے جانا نہیں چاہتیں کیونکہ صورتحال ابھی غیر یقینی ہے اور جلد بدل سکتی ہے۔ مزید برآں تمام نیٹو شراکت داروں کا موقف ابھی تک واضح نہیں ہے۔
مزید برآں، ترکی کو ہتھیار برآمد کرنے کے قواعد میں کچھ سختی کی گئی ہے۔ ترکی کو فوجی سازوسامان کی برآمد پہلے سے ہی انتہائی سخت قواعد کے تابع ہے۔

