انٹرنیشنل میریٹائم آرگنائزیشن لندن میں ایک غیر معمولی اجلاس کر رہی ہے جس کا موضوع بحران کے بین الاقوامی شپنگ پر اثرات ہیں۔ یہ اجلاس دو دن تک جاری رہے گا اور مکمل طور پر سمندری حفاظت پر مرکوز ہے۔
مشاورت کی وجہ حالیہ دنوں میں ہارموز کی تنگ آبی و اس کے ارد گرد تاجر جہازوں پر ہونے والے حملے ہیں۔ ان واقعات نے دنیا بھر میں بحری شعبے میں بڑی بے چینی پیدا کی ہے۔
عملے
متعدد اطلاعات کے مطابق ایسے حملوں میں سمندری عملے کے افراد بھی متاثر ہوئے ہیں۔ عملے کے ارکان ہلاک ہوئے اور دیگر شدید زخمی ہوئے۔
Promotion
عملے کی حفاظت پر بہت زور دیا جا رہا ہے۔ اس شعبے میں یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سمندری عملہ کبھی بھی حملے کا نشانہ نہ بنایا جائے اور ان کی سلامتی اولین ترجیح ہو۔
یہ کشیدگی ہارموز کے تنگ راستے کے گرد گھوم رہی ہے، جو دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ عالمی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ اس تنگ سمندری گذر گاہ سے گزرتا ہے۔
بحری جہاز
اسی دوران، امریکہ خطے میں شپنگ کی حفاظت کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر ممالک سے کہا ہے کہ وہ بحری جہاز اس علاقے میں بھیجیں تاکہ جہازوں کی رہنمائی کی جا سکے۔
اب تک اس مطالبے کو وسیع اور واضح حمایت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ مختلف ممالک نے ٹرمپ کی درخواست پر محتاط ردعمل دیا ہے اور انہوں نے کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی۔
اسی دوران بین الاقوامی شپنگ کے لیے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ شپنگ کمپنیاں اور بحری تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ عملے کی حفاظت اور جہازوں کی آزاد گزرگاہ شدید دباؤ میں ہے۔

