شکست خوردہ ہنگری کے سابق وزیراعظم وکٹر اوربان نے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے سے انکار کر دیا ہے، لیکن وہ اپنی جماعت کے رہنما رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ متحدہ ریاستوں کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔
بھاری انتخابی شکست کے بعد، ہنگری کے سابق وزیراعظم وکٹر اوربان پارلیمنٹ سے خود کو الگ کر رہے ہیں۔ اسی دوران ان کے سیاسی اور اقتصادی نیٹ ورک کے پیسوں کے بہاؤ اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
فرار
اوربان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہنگری کی پارلیمنٹ میں اپنی نشست نہیں لیں گے۔ اگرچہ وہ پارٹی فہرست کے ذریعے منتخب ہوئے تھے، لیکن پارٹی کی شکست کے باعث وہ اپنا مینڈیٹ واپس کر رہے ہیں۔
Promotion
اسی وقت نئی طاقت کے حامل پیٹر میگیار کی جانب سے سخت تنقید سنائی دے رہی ہے۔ وہ اوربان اور اس کے امیر حامیوں کے دائرے پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ بڑی مقدار میں رقم بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔
میگیار کے مطابق، بااثر کاروباری شخصیات ہنگری کے باہر اپنی دولت کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف ممالک کو ان پیسوں کے ممکنہ ٹھکانوں کے طور پر بتایا جا رہا ہے۔
متحدہ ریاستوں کی جانب
اطلاعات ہیں کہ اوربان کا خاندان روانگی کی تیاری کر رہا ہے۔ کچھ افراد اپنے خاندان کو منتقل کر چکے ہیں اور ملک چھوڑنے کے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ اوربان خود ممکنہ طور پر بیرون ملک سفر کرنے کے ارادے رکھتے ہیں۔ متحدہ ریاستیں ان کا ممکنہ منزل ہے، جہاں ان کی ایک بیٹی رہتی ہے۔
ہنگری کی سیاسی تبدیلی واضح انتخابی نتائج کے بعد آئی ہے۔ پیٹر میگیار کی پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی، جبکہ اوربان کی پارٹی کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پارلیمنٹ سے ان کے علیحدہ ہونے کے باوجود اوربان کا پارٹی میں کردار فی الحال کھلا ہے۔ سال کے بعد ہونے والے پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا وہ لیڈر کے طور پر برسرِ اقتدار رہیں گے یا نہیں۔
نئی رہنمائی؟
طاقت کی تبدیلی کے ساتھ، ہنگری ایک نئے سیاسی مرحلے کے آغاز پر ہے، جبکہ سابق حکمرانوں اور ان کے اقتصادی نیٹ ورکس کے مستقبل کے حوالے سے بے یقینی پائی جاتی ہے۔
یورپی یونین کے رکن ممالک خصوصاً دیکھ رہے ہیں کہ کیا متوقع نئے وزیراعظم اوربان کی حزبِ فیدیز کی قوم پرستانہ پالیسی، جو مؤثر طور پر یورپ مخالف اور روس نواز ہے، کو جاری رکھے گا۔

