نیدرلینڈ کی زرعی خوراک کی صنعت ایران میں سرمایہ کاری کے لیے دوبارہ دلچسپی لے رہی ہے، نیدرلینڈ کے زرعی مشیر ہانس اسمولڈرز کہتے ہیں۔ یہ ایران اور امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی کشیدگیوں کی وجہ سے طویل عرصے تک مختلف تھا۔
حال ہی میں ایک بڑھتی ہوئی تعداد میں نیدرلینڈ کی کمپنیاں تہران میں نیدرلینڈ کے سفارتخانے سے معلومات طلب کر رہی ہیں۔
مختلف وجوہات کی بنا پر نیدرلینڈ نے 2005 سے ایران میں کوئی زرعی مشیر مقرر نہیں کیا تھا، جب تک کہ 2017 میں اسمولڈرز وہاں تعینات نہیں ہوئے۔ لیکن سابق امریکی صدر ٹرمپ کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے مختلف تجارتی پابندیوں کے باعث صورتحال خراب ہونے کا خدشہ تھا۔
Promotion
نیدرلینڈ اس سے پہلے تقریبا 1.2 ارب یورو کی برآمدات ایران کو کرتا تھا، جس کا کچھ حصہ زرعی شعبے سے متعلق تھا۔ بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے یہ رقم نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ 2020 میں کل برآمدی مالیت آدھی سے بھی کم، قریباً 0.5 ارب یورو تک رہ گئی۔
جب نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے عہدہ سنبھالا تو ایران اور دنیا کے دیگر حصوں کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے۔ اسمولڈرز کے مطابق یہ بلا شبہ تجارت پر مثبت اثر ڈالے گا، خاص طور پر جب پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ وہ نوٹ کرتے ہیں کہ بہت سی نیدرلینڈ کی زرعی خوراک کی کمپنیاں کاروبار کرنے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔
ان کے مطابق نیدرلینڈ ایرانی آلو کے شعبے میں قدم جمانا شروع کر چکا ہے، ایک سیمینار کے بعد جس میں 250 شرکاء اور نیدرلینڈ کی طرف سے پیشہ ورانہ تعاون شامل تھا۔ آلو کا شعبہ وہاں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور علم و ٹیکنالوجی کی فراہمی اس کے لیے اہم ہے۔
ڈومڈ گارڈننگ یعنی پوشیدہ باغبانی میں بھی نیدرلینڈ نے کامیاب روابط قائم کیے ہیں۔ 2015 سے شیشے کے خانوں کا رقبہ 6,000 ہیکٹر بڑھا ہے۔ نیدرلینڈ کے شیشے کے گھروں کے ماہرین نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
حالیہ مدت میں عراقی اور نیدرلینڈ کی فریقین کے درمیان نمک برداشت کرنے والی فصلوں کی کاشت پر تجربات کرنے کے لیے معاہدے کیے گئے ہیں۔ عراق زیادہ نمکین زمینوں کی زراعت کے بارے میں نیدرلینڈ کے علم کا خواہاں ہے۔ اور ایران نے بھی اپنا عرضہ کیا ہے، اسمولڈرز کے مطابق۔

