نیدرلینڈ نے آسٹریا، سویڈن اور ڈنمارک کے ساتھ مل کر یورپی کورونا ریکوری فنڈ کے لیے اپنی تجاویز پیش کی ہیں۔ یہ چار ملکوں کا منصوبہ اہم نکات پر حالیہ شائع ہونے والے فرانسیسی-جرمن منصوبے کے بالکل برعکس ہے۔
چاروں ملکوں کی تجویز کو ‘‘کنجوس چار’’ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو گزشتہ ہفتے فرانسیسی صدر میکرون اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے پیش کیے گئے مصالحتی منصوبے پر رد عمل ہے۔ اس طرح برسلز میں مذاکراتی میز پر اب دو تجاویز موجود ہیں۔
سیاسی اور انتظامی سطح پر یورپی یونین کے اداروں کا فوکس ابتدائی ہنگامی اقدامات کے بعد اب دوبارہ تعمیر پر ہے۔ لیکن پیش گوئیاں افسوسناک ہیں۔ معیشت اوسطاً 7.4 فیصد سکڑ رہی ہے۔ اس متوقع کساد بازاری کے باوجود یورپی یونین نے طویل عرصے تک تعمیر نو کے منصوبے کی مالی اعانت پر کشمکش کی ہے۔ شمال اور جنوب، اور امیر اور غریب کے درمیان معروف اختلافات پھر سے ابھرے ہیں۔
ایسی صورتحال میں ایمانوئل میکرون اور انگیلا میرکل نے گزشتہ ہفتے اقدام کیا۔ انہوں نے 500 ارب یورو کا تعمیر نو فنڈ تجویز کیا، جس میں دیگر یورپی یونین کی ترامیم بھی شامل ہیں۔ یورپی کمیشن کو اس رقم کو سرمائی مارکیٹ سے اکٹھا کرنا ہوگا اور رکن ممالک مل کر رقم واپس کریں گے۔
چاروں ملکوں کی تجویز ترمیم شدہ یورپی یونین کے کثیر سالہ بجٹ سے پہلے پیش کی گئی ہے جو معاشی بحالی کے لیے سیکڑوں ارب یورو جمع کرنے کے راستے کو ہموار کرے گا۔ خاص طور پر جنوبی یورپ کے ممالک کورونا بحران سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ نیدرلینڈ کو جنوبی ممالک کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا تھا کہ ہاگ بہت سخت موقف اختیار کر رہا ہے۔ نیدرلینڈ بے شرائط کئی ارب یورو دینے کے حق میں نہیں ہے۔
بدھ کو کمیشن کی صدر ایرسولا وون ڈیر لین یورپی یونین کے 2021-2027 کے لئے کثیر سالہ بجٹ کی نظرثانی پیش کریں گی، جیسا کہ اب تک منصوبہ بند ہے۔ چاروں ممالک ایک عارضی، ایک مرتبہ کا ہنگامی فنڈ تجویز کرتے ہیں۔ یہ فنڈ معمول کے یورپی بجٹ سے الگ ہوگا، اس لیے یورپی قوانین اور صلاحیتوں سے بھی باہر ہوگا۔ اس طرح یورپی پارلیمنٹ کو بھی اس پر کوئی بات کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اس فنڈ سے سب سے زیادہ متاثرہ یورپی ممالک زیادہ سے زیادہ دو سال کے لئے قرض لے سکیں گے۔
رقم کی مقدار ابھی نہیں بتائی گئی ہے۔ کمیشن پہلے یہ معلوم کرے گا کہ کتنی رقم کی واقعتاً ضرورت ہے۔ متاثرہ ممالک جو رقم چاہتے ہیں انہیں اپنا بحالی منصوبہ خود پیش کرنا ہوگا۔ میرکل اور میکرون کا امدادی منصوبہ قرض نہیں بلکہ امداد یا گرانٹ ہے۔ ان کے مطابق یورپ میں قابل قبول قرض کی حد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ چاروں ملکوں کی رائے میں غلط ہے۔
میرکل کے مطابق یہ ‘‘ایک غیر معمولی ایک بار کی کوشش’’ ہے تاکہ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی مدد کی جا سکے۔ چاروں ممالک مزید رقم یورپی یونین کے کثیر سالہ بجٹ میں شامل کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ بجٹ سات سال کے لیے برقرار رہے اور بحالی فنڈ دو سال کے لیے عارضی طور پر اس کے ساتھ چل سکے۔

