نیدرلینڈ اور فرانس ایک آزاد یورپی نگران کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ مجرمانہ رقم کی منی لانڈرنگ کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے۔ ہیگ اور پیرس کچھ عرصے سے ایسے ممالک کے ساتھ اتحادی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جن کے خیالات ان سے مماثل ہیں کیونکہ منی لانڈرنگ اور مالی فراڈ سرحد پار ہونے والے مسائل ہیں۔
پچھلے سالوں میں یورپی یونین کو کچھ بڑے منی لانڈرنگ اسکینڈلز نے ہلا کر رکھ دیا، جن میں ING اور Danske بینک شامل ہیں۔ یورپی یونین میں پیسہ کی منتقلی پر نگرانی فی الحال قومی سطح پر ہوتی ہے، لیکن کوئی مرکزی نگرانی موجود نہیں ہے۔ نیدرلینڈ میں اس کا اختیار De Nederlandsche Bank (DNB) کے پاس ہے۔
گزشتہ سال کے آخر میں ایک تجویز واپس لے لی گئی تھی جس کا مقصد موجودہ یورپی بینک اتھارٹی (EBA) کو مضبوط کرنا تھا تاکہ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی مکمل نفاذ کی نگرانی کی جا سکے، لیکن تب کوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوا تھا۔ اب پردے کے پیچھے بینکنگ نگرانی کے لیے ایک چھوٹے پیمانے پر یورپی یونین کے شعبے کے قیام پر کام جاری ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ نگرانی ممکنہ طور پر نئے یورپی عوامی وکیل کے پاس بھی ہو سکتی ہے۔
ING بینک کے نیدرلینڈ کے سربراہ رالف ہیمرس یورپی اینٹی منی لانڈرنگ اتھارٹی کے پُرجوش حامی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ قومی حکمت عملی مالیاتی جرائم کے خلاف ناقص اور غیر مؤثر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جرم کسی مخصوص بینک پر یا سرحد کے اندر ہی نہیں رکتا۔
نیدرلینڈ کے بینکر ہیمرس کو ترجیحاً ایسا یورپی پالیسی کا حامی ہے جس میں بینک اور تحقیقی ادارے مشترکہ طور پر سرحد پار تعاون کریں اور ایک یورپی ادارے کی نظرِ نگرانی میں کام کریں۔ ING کو پچھلے سال منی لانڈرنگ کی ناکام حکمت عملی کی بنا پر 775 ملین یورو جرمانہ بھی کیا گیا۔

