نیدرلینڈز کو اپنی موجودہ سرمایہ کاری سے بھی زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ یہ بات یورپی کمیشن نے آئندہ سال کے لیے نیدرلینڈز کے بجٹ کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہی ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق جرمنی نے بھی اپنا بجٹ اتنی اچھی طرح ترتیب دیا ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے مالی گنجائش موجود ہے۔
نیدرلینڈز نے کچھ سالوں سے اپنے بجٹ کے اضافے کو قومی قرض کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یورپی کمیشن اور یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم رٹے کی حکومت کو یہ رقم سرمایہ کاری میں لگانی چاہیے، مثلاً تنخواہوں میں اضافہ اور معیشت کو سبز بنانے کے لیے۔ آئندہ سال نیدرلینڈز کے پاس مزید سرمایہ کاری کے لیے گنجائش ہے اور برسلز کے مطابق حکومت کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
نیدرلینڈز کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال پہلے ہی "بہت بڑی" سرمایہ کاری کرے گا، جس میں انفراسٹرکچر، یوتھ کیئر، تعلیم، دفاع اور ہاؤسنگ مارکیٹ کے لیے اضافی فنڈز شامل ہیں۔ وزیر وپکے ہویکسترا (مالیات) کے مطابق نیدرلینڈز کا بجٹ "متوازن" ہے۔ ان کے خیال میں یہ اہم ہے تاکہ اقتصادی حالات خراب ہونے پر فوری طور پر کٹوتی نہ کرنی پڑے۔
یورو زون میں برسوں کے بعد پہلی بار کوئی ملک بڑا بجٹ خسارہ نہیں رکھتا۔ صرف فرانس کا خسارہ 3 فیصد سے زیادہ ہے مگر کمیشن کے مطابق یہ عارضی ہے۔ یورو زون سے باہر ہنگری اور رومانیا وہ یورپی یونین کے ممالک ہیں جو زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
نو یورو ممالک، جن میں نیدرلینڈز بھی شامل ہے، منافع کما رہے ہیں۔ اسٹونیا اور لٹویا زیادہ تر قواعد پر پورا اتر رہے ہیں، جبکہ آٹھ یورپی ممالک قواعد کی پابندی نہ کرنے کے خطرے میں ہیں۔ ان ممالک میں بیلجیئم، اسپین، فرانس اور اٹلی شامل ہیں جہاں حکومت کے قرضے بہت زیادہ ہیں۔ اٹلی کا سرکاری قرضہ یہاں تک بڑھنے کا خدشہ ہے کہ یہ مجموعی قومی پیداوار کے 137.4 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ قواعد کے مطابق یہ 60 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

