ریاستہائے متحدہ امریکہ نیٹو کے آپریشنل اخراجات میں کم ادا کرے گا، اور کچھ یورپی ممالک زیادہ ادا کریں گے۔ امریکی حصہ جو دو ارب یورو سے زائد ہے، 22.1 فیصد سے کم ہو کر 16.35 فیصد ہو جائے گا۔ اگلے ہفتے لندن میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں نیا بجٹ طے کیا جائے گا۔
ہر نیٹو ملک نئی لاگت کی تقسیم سے خوش نہیں ہے۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ فرانس نے شکایت کی ہے کہ یہ تقسیم دوسرے اتحادیوں سے مناسب مشاورت کے بغیر کی گئی ہے۔ پیرس اپنے حصے کو 10 فیصد سے زائد رکھے گا۔ جرمنی کی شراکت بڑھائی جائے گی۔
نئی لاگت کی تقسیم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ہے۔ وہ خاص طور پر شکایت کرتے ہیں کہ دوسرے نیٹو ممالک دفاع پر کم خرچ کرتے ہیں۔ امریکی نیٹو کے آپریشنل اخراجات میں امریکی حصہ کی مقدار پر بھی ناخوش ہیں۔
نیٹو کا بجٹ خود بہت محدود ہے۔ نیٹو کا کوئی فوج نہیں ہے۔ اخراجات صرف مشترکہ کیمپوں، بروکسل میں ہیڈکوارٹر، عملے کے اخراجات، وغیرہ پر ہوتے ہیں۔
اب تک امریکہ ان عمومی اخراجات کا 22.1 فیصد ادا کرتا تھا۔ جرمنی تقریباً 14.8 فیصد دیتا تھا۔ اب بجٹ کو 33 ملین بڑھانے سے جرمنی 16.35 فیصد ادا کرے گا۔ اسی وقت امریکہ اپنا حصہ کم کر کے 16.35 فیصد کرے گا۔
یہ فیصلہ جرمن اور امریکی بجٹ پر بہت کم اثر ڈالے گا، لیکن علامتی طور پر بہت اہم ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ طویل عرصے سے دیگر نیٹو اراکین سے ناخوش ہیں۔ اس رعایت کے ذریعے جرمن چانسلر اینجیلا مرکل ٹرمپ کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ وہ ان کی شکایات کو سنجیدگی سے لیتی ہیں۔

