نیٹو روسی صدر پوٹن کی اس شرط کو قبول نہیں کرے گا کہ اس سے پہلے واضح کیا جائے کہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں بن سکتا، اور نیٹو کو مشرقی و وسطی یورپ میں کم فعال ہونا چاہیے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل ینگس اسٹولٹن برگ نے تیس نیٹو وزراء خارجہ کے اجلاس کے بعد کہا کہ یہ شرائط ’ناقابل قبول‘ ہیں۔
پیر کو امریکہ روس کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات شروع کرے گا، اور بدھ کو روس نیٹو کے ساتھ اجلاس کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلیکن اب بھی امید کرتے ہیں کہ روس کے ساتھ کشیدگی سفارتی ذریعے سے حل کی جا سکتی ہے۔ اسٹولٹن برگ کہتے ہیں کہ نیٹو کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ روس کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔
پوٹن نے یہ ضمانت مانگی ہے کہ یوکرین کبھی نیٹو کا رکن نہ بنے۔ روسی سرحد کے نزدیک دوسری جگہوں پر بھی پوٹن نیٹو کی موجودگی کم کرنا چاہتے ہیں اور اس لیے وسطی اور مشرقی یورپ میں فوجی مشقوں کو ختم کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ یہ دونوں پیشکشیں نیٹو کی طرف سے مسترد کر دی گئی ہیں۔
نیٹو کے سابق سیکریٹری جنرل جیاپ دے ہوپ شیفر نے این او ایس کو بتایا کہ ’پوٹن بخوبی جانتا ہے کہ اس کی شرائط بالکل ناقابل قبول ہیں۔‘ ’یہ ایسا ہے جیسے وہ برلن کی دیوار گرنے سے پہلے کی حالت میں واپس جانا چاہتا ہو‘، دے ہوپ شیفر نے کہا۔
روسی رہنما یہ شرائط اس کے بعد رکھ سکے جب انہوں نے پچھلے ہفتوں میں مغرب کو بے چین کر دیا۔ یوکرین کی سرحد پر روسی فوجی طاقت جمع ہو رہی ہے جس کی وجہ سے روس نواز مشرقی یوکرین پر حملے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

