برطانوی حکومت جلد ہی ایک بین الاقوامی اجلاس کا انعقاد کر رہی ہے تاکہ ہرمز کی خلیج کے ذریعے بحری آمد و رفت کو بحال کرنے کے طریقے زیر غور لائے جا سکیں۔ اس میں سفارتی حل اور ممالک کے درمیان مشترکہ معاہدات پر زور دیا جائے گا۔ سٹارمر بار بار کہتے ہیں کہ وہ فوجی ذرائع سے مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ایک پیچیدہ اور طویل مدتی کام ہے، جو جلد ہی حل نہیں ہو گا۔ سٹارمر کے مطابق متحدہ بادشاہت اپنے قومی مفادات میں کام کر رہا ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ لندن اپنی راہ خود متعین کرتا ہے، جو سلامتی، استحکام اور اقتصادی مفادات پر مبنی ہے، چاہے وہ امریکی لائن سے مختلف کیوں نہ ہو۔
تنہا چھوڑنا
دریں اثنا واشنگٹن کی جانب سے سخت تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپی اتحادیوں کو الزام دیتے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف اپنی جنگ میں فوجی مدد فراہم نہیں کرنا چاہتے۔
Promotion
یہ تنقید صرف بعض ممالک کی طرف نہیں بلکہ پورے یوروپ پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یورپی شرکاء امریکہ اور اسرائیل کو تنہا چھوڑ رہے ہیں کیونکہ وہ صورتحال سے خود کو الگ رکھتے ہیں۔
نیٹو سے امریکہ کا انخلا
امریکی صدر نے اس ناراضی کو اتحاد کے مستقبل سے جوڑا ہے۔ انہوں نے دوبارہ یہ عندیہ دیا ہے کہ اگر حمایت نہ ملی تو وہ امریکہ کو نیٹو سے واپس لے جانے کا سوچ رہے ہیں۔
امریکی حکومت کے اندر بھی یہ رویہ دہرایا جا رہا ہے۔ نیٹو کے کردار کی دوبارہ جانچ کے بارے میں بات ہو رہی ہے، جو اس بات پر منحصر ہے کہ اتحادی اس تنازعہ میں کس طرح کا موقف اختیار کرتے ہیں۔
براہِ راست خطرہ
فوجی کشیدگی اور سفارتی اختلافات کا مجموعہ تعلقات پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ جہاں امریکہ کارروائی پر زور دیتا ہے، وہاں یورپی یونین کے ممالک اور برطانیہ احتیاط اور مشاورت کا انتخاب کرتے ہیں۔
اسی وقت بحران کے نتائج کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ ہرمز کی خلیج کے اردگرد صورتحال کو عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔
سٹارمر اپنے اقدام کے ذریعے ایک درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ممالک کو ایک ساتھ لا کر وہ چاہتے ہیں کہ صورتحال مزید بگڑنے سے بچ جائے اور بحری آمد و رفت کے لیے ایک عملی حل پر کام کیا جا سکے۔

