صدر میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد بڑھائے گا تاکہ ایک نئی حکمت عملی کے تحت یورپی شراکت داروں کو ابھرنے والے خطرات سے بہتر تحفظ دیا جا سکے۔
فرانسیسی صدر نے آٹھ یورپی ممالک کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ آئل لانگ کے بحری اڈے پر اپنے خطاب میں میکرون نے یورپی تعاون اور یکجہتی پر توجہ مرکوز کی۔
فرانس کے اس نئے تصور 'آگے بڑھ کر روک تھام' کا مقصد فرانس کی دفاعی پالیسی کو مضبوط بنانا ہے۔ فرانس پڑوسی ممالک جیسے کہ جرمنی، برطانیہ اور پولینڈ کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا۔
Promotion
میکرون کا کہنا ہے کہ یہ تعاون مخالفین کے حسابات کو مشکل بنا دے گا۔ مقصد یورپ کی سلامتی کے ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔
اس کے علاوہ میکرون نے شراکت دار ممالک کے ساتھ عارضی ایٹمی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک نئی حکمت عملی ہے جس میں فرانس اپنی ایٹمی روک تھام کی صلاحیتیں شریک کرتا ہے لیکن حتمی فیصلے کی شراکت نہیں کرتا۔ یہ طریقہ یورپ میں فوجی تعاون کو مضبوط بنائے گا۔
صدر نے موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کو نگران کن قرار دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور ایٹمی معاہدوں کی خلل اندازی کی نشاندہی کی جو ایک متحرک دفاعی رویے کا مطالبہ کرتی ہے۔
بیلجیم، ڈنمارک، یونان، نیدرلینڈز، سویڈن اور دیگر ممالک کو اس نئی ایٹمی حکمت عملی میں شراکت دار قرار دیا گیا ہے۔ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یہ تعاون ترجیحی حیثیت رکھتا ہے۔
میکرون نے یورپی یونین کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اور دیگر علاقوں سے پیدا ہونے والے تناؤ کے جواب میں دفاع اور سلامتی کو بہتر بنایا جائے۔ اس سے یورپ میں فوجی تعاون کے ایک نئے درجے کی راہ کھل سکتی ہے۔
فرانسیسی صدر نے اپنے خطاب کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا کہ یورپ کو ان غیر یقینی اوقات میں اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانی ہوگی۔ انہوں نے دہرایا کہ فرانس یورپی یونین میں اپنی ایٹمی طاقت کے طور پر کردار کو مضبوط بنائے گا۔

