خاص طور پر امریکی کردار کے حوالے سے نیٹو کے اندر نئی تشویشوں کے باعث نئے منصوبے زیر غور ہیں۔ نئی یورپی دفاعی ساخت کے بارے میں بحث کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔ نیٹو سے ممکنہ انخلا کے حوالے سے بیانات نے یورپی ممالک پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
متبادل
یورپ اب یوکرین کو مشترکہ دفاع میں جلد شامل کرنے کے نئے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یوکرین کے لیے نیٹو کی رکنیت فی الحال ممکن نہیں سمجھی جاتی۔ ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ یورپی یونین کی رکنیت ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔
اسی وجہ سے ایک ایسا متبادل تلاش کیا جا رہا ہے جو زیادہ جلدی کام کر سکے۔ یوکرین کو یورپ کے مستقبل کی سلامتی کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے اور اسے مشترکہ دفاعی معاہدوں میں براہ راست شامل کیا جانا چاہیے۔
Promotion
لندن اور اوسلو
ایسے دیگر ممالک جو یورپی یونین کے رکن نہیں جیسے برطانیہ اور ناروے بھی ممکنہ شرکاء کے طور پر ذکر کیے جا رہے ہیں۔ یہ یورپی یونین کی موجودہ حدود سے آگے ایک وسیع تعاون کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایک تجویز کردہ حل ایسے ممالک کے درمیان نیا معاہدہ ہے جو دفاعی تعاون کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ یہ ماڈل جلدی فیصلے کرنے اور فوجی تعاون کو بہتر بنانے کے قابل بنانا چاہیے۔
یورپی فوج
منصوبوں کے مطابق موجودہ یورپی معاہدے ایک مضبوط اور مشترکہ دفاعی نظام قائم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ایک نئی ساخت ممالک کو ایک مجموعی طور پر کام کرنے کے قابل بنائے گی بجائے اس کے کہ وہ علیحدہ قومی فوجوں کی طرح کام کریں۔ کچھ یورپی سیاستدان پہلے ہی یورپی فوج کی تشکیل کی بات کر رہے ہیں۔
اسی وقت یورپ میں دفاعی اخراجات میں اضافے اور فوجی صنعت میں زیادہ تعاون پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ مختلف پہل قدمیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کئی یورپی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بہتر ہم آہنگی چاہتے ہیں۔
کینیڈا اور ترکی
اسی طرح یورپی یونین کے باہر کے کچھ ممالک جیسے کینیڈا یورپی دفاعی منصوبوں میں حصہ لینے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ اس سے یہ بحث جنم لیتی ہے کہ نئے تعاون کی شکلوں میں کون شامل ہو سکتا ہے اور کون نہیں۔
نیٹو کے رکن مگر یورپی یونین کے رکن نہ ہونے والے ملک ترکی نے بھی ایسے وسیع یورپی دفاعی یونین کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس بارے میں کوبیلیوس نے کچھ خاص نہیں کہا۔

