EHRM عدالت کا فیصلہ NOS، RTL نیوز اور فولکسکرنٹ کی جانب سے دائر کیس کے بعد آیا ہے۔ انہوں نے 2014 میں مشرقی یوکرین کے اوپر سے MH17 پرواز کے گرنے کے فوراً بعد نیدرلینڈ کی حکومت کے اندر تیار کی گئی دستاویزات دیکھنا چاہی تھیں۔ ان میں وزیران کی میٹنگز کے نوٹس اور اندرونی رپورٹس شامل تھیں۔
نیدرلینڈ کے میڈیا نے اس وقت ان دستاویزات کی درخواست حکومتی شفافیت کے قومی قواعد کے تحت کی تھی۔ سابقہ رٹے حکومت نے کچھ معلومات جاری کیں، لیکن کچھ دستاویزات کو خفیہ رکھا۔ اس میں حساس معلومات کے تحفظ اور ممکنہ حفاظتی خطرات کا حوالہ دیا گیا۔
روسی BUK میزائل
نیدرلینڈ کی حکومت نے حملے کے مرتکب افراد کو پکڑنے کے لیے قانونی کارروائیاں شروع کی تھیں، حالانکہ اس وقت بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ روس حملے کے پیچھے ہے یا کم از کم اس کا حصہ دار ہے۔ بعد میں بین الاقوامی تحقیق سے معلوم ہوا کہ MH17 کو مار گرانے والا BUK میزائل روس سے آیا تھا۔
Promotion
نیدرلینڈ کی حکومتی دستاویزات کی شفافیت کا سلسلہ ایک طویل قانونی معاملے کا باعث بنا۔ بالآخر سب سے اعلیٰ عدالتی سطح نے فیصلہ دیا کہ ہیگ کو دستاویزات مکمل طور پر شائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق، بعض معلومات کا تحفظ عوامی مفاد سے زیادہ اہم تھا۔
صحافت
یہ کیس ہارنے کے بعد میڈیا ادارے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے معلومات تک رسائی کے حق کو محدود کیا گیا ہے، جس کے اثرات ان کے صحافتی کام پر پڑے ہیں۔
سٹراسبرگ کی عدالت نے اب یہ شکایت مسترد کر دی ہے۔ یورپی ججز کے مطابق، نیدرلینڈ کے حکام نے اپنے فیصلے میں درست معیارات اپنائے اور احتیاط سے کام لیا۔ عدالت کے مطابق حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں۔
کبھی کبھار راز رکھا جاتا ہے
عدالت نے زور دیا کہ بعض مواقع پر حکومتیں معلومات کو خفیہ رکھ سکتی ہیں، مثلاً حساس یا رازدارانہ معلومات کے معاملے میں۔ اس کے لیے شفافیت اور دیگر مفادات کے مابین توازن قائم کرنا ضروری ہے۔
اس کیس میں ججز نے فیصلہ دیا کہ یہ توازن کافی احتیاط سے کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ کوئی غیر معمولی حالات بھی نہیں تھے جو مکمل انکشاف کے لیے ضروری ہوں۔
اس فیصلے کے ساتھ MH17 سانحے سے متعلق حکومتی فیصلہ سازی کی شفافیت کے بارے میں کئی سالہ قانونی جدوجہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

