پولینڈ کو یورپی عدالت انصاف نے امتیازی سلوک کے جرم میں سزا دی ہے۔ پولش حکومت نے کوشش کی تھی کہ ’مشکل ججوں‘ کو قبل از وقت ریٹائر کروا کر فارغ کیا جائے۔
ایک متنازعہ پولش قانون کے مطابق خواتین ججز اور پراسیکیوٹرز کو ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر ہونا پڑتا ہے، جبکہ مردوں کو پچھتر سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ ملتی ہے۔ یورپی عدالت کہتی ہے کہ یہ قانون مساوی سلوک کے قانون کے خلاف ہے۔
یورپی کمیشن پہلے ہی پولینڈ میں عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچانے کے خلاف کارروائیاں شروع کر چکا ہے۔ جون میں یورپی یونین کو لگژمبرگ کی عدالت سے ایک اور غیر قانونی پولش قانون کے معاملے میں حق حاصل ہوا تھا۔ یورپی کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ پولینڈ میں عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک اہم حکم ہے۔
اسی دوران 19 نومبر کو یورپی عدالت انصاف کے فیصلے کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس دن پولش حکومت کے ایک نئے قانون پر رائے دی جائے گی، جس کے تحت ججز کو سیاست سے متعلق ’غلط‘ فیصلے دینے پر سزا دی جا سکتی ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق یہ نیا قانون پولش ریاستی عدالت کے آزادی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یورپی عدالت میں مقدمات کے علاوہ پولینڈ کے خلاف ایک اور ’آرٹیکل 7‘ کی کارروائی بھی جاری ہے۔ آخرکار یہ کارروائی پولینڈ کو ووٹ کے حق سے محروم کر سکتی ہے، جس کے لیے یورپی ممالک میں اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔

