حال ہی میں یورپی عدالت انصاف نے دو مقدمات میں ان مشتبہ شرائط پر فیصلہ سنایا جو ہالینڈ نے بین الاقوامی پنشن کی منتقلی کے سلسلے میں اپنائی تھیں۔ یہ شرائط ان کارکنوں کے بارے میں تھیں جنہوں نے ہالینڈ میں کام کرتے ہوئے پنشن جمع کی اور پھر کسی غیر ملکی ملازمت کی طرف جانے کے وقت یہ رقم غیر ملکی پنشن فنڈ کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
ایک مسترد شدہ شرط یہ تھی کہ غیر ملکی پنشن فنڈ کے پاس ہالینڈ کی نسبت زیادہ لچکدار رقم نکلوانے کے اختیارات نہیں ہونے چاہئیں۔ پنشن کی عمر سے پہلے ادائیگی پر ہالینڈ میں آمدنی ٹیکس ادا کرنا ضروری ہے۔ نقل مکانی کے بعد ہالینڈ میں جمع شدہ پنشن کی (جلد تر) ادائیگی مشکل بنادی گئی تھی۔
ہالینڈ نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ مجوزہ غیر ملکی پنشن فنڈ کو ہالینڈ کی طرف سے پنشن کی (آئندہ) ادائیگیوں پر عائد ٹیکس ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ تقریباً کوئی بھی فنڈ ایسا بیان دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ یہ ذمہ داری ٹیکس چھوٹ کے غلط استعمال روکنے کے لیے مستقبل میں وصولی کے طور پر رکھی گئی تھی۔
یورپی کمیشن نے ان دو شرائط کو ملازمین کی آزادانہ نقل و حرکت کے حق کی خلاف ورزی سمجھا کیونکہ ہالینڈ اس طریقے سے بیرون ملک ملازمت قبول کرنے میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ یہ اصول غیر ملکی کارکنوں پر بھی لاگو ہوتا جو ہالینڈ میں کام کے بعد اپنی ملک واپسی چاہتے ہیں۔
یورپی ججز کا فیصلہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ دو مخصوص شرائط فوری طور پر بین الاقوامی انفرادی پنشن کی منتقلی کے لیے قابلِ قبول نہیں رہیں گی۔ ہالینڈ کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ بیرون ملک پنشن کی جلد ادائیگی کی ٹیکس پیچیدگیوں کو تب ہی روکے جب دوسرے ممالک کے ساتھ ٹیکس معاہدے ہوں، لیکن متعدد ممالک کے ساتھ ابھی تک کوئی معاہدہ موجود نہیں۔
ہالینڈ اور یورپی کمیشن کے درمیان بڑا قانونی تنازع یہ ہے کہ برسلز کا خیال ہے کہ ہالینڈ کے پنشن فنڈز کے ریزروز کو ہالینڈ کے ٹیکس مالکیت کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔ ہالینڈ اس سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پنشن رقم نوکری دہندگان اور یونین کی مشترکہ ملکیت ہے، حکومت کی نہیں۔ دوسرے یورپی ممالک میں پنشن رقم کو حکومت 'ٹیکس' کے طور پر اکٹھا کرتی ہے، جبکہ ہالینڈ میں اسے ایک مخصوص مقصودی محصول ('موخر تنخواہ') کہا جاتا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ وان رائے نے کہا ہے کہ اب پنشن قانون اور مالیاتی ضوابط میں چند شقوں میں تبدیلی ضروری ہے۔ ایسی ٹیکس مشکلات سے بچنے کے لیے ٹیکس ادارہ نگرانی کرے گا کہ یہ منتقلیاں کن ممالک کو ہو رہی ہیں اور کتنی رقم منتقلی کی جارہی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کام کب اور کیسے کیا جائے گا، مگر یہ معلوم ہوگا کہ برسلز یہ بغور دیکھے گا کہ ہالینڈ پنشن قوانین کو یورپی قوانین کے مطابق ترمیم کر رہا ہے یا نہیں۔

