یورپی یونین جلد ہی ان افراد اور کمپنیوں پر جرمانے اور دیگر سزائیں عائد کر سکتی ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں یا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پابندی نہیں کرتے۔ یورپی یونین جرمانے عائد کر سکتی ہے، اقتصادی پابندیاں لگا سکتی ہے، یورپی یونین کے اندر سفری پابندیاں لگا سکتی ہے، یا بینک اکاؤنٹس ضبط کر سکتی ہے۔
یورپی وزارت خارجہ کے وزراء نے اس تجویز سے اتفاق کیا جو نیدرلینڈز نے کچھ مہینے پہلے پیش کی تھی۔ نیدرلینڈز کی پارلیمنٹ چاہتی تھی کہ یورپی یونین اپنی ایک Magnitsky قانون بنائے جو خاص طور پر روسی سیاستدانوں اور اہلکاروں کے خلاف ہو جن پر کرپشن کے شبہات ہوں۔
امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، اور تین بحرِ بالٹک کے ممالک پہلے ہی Magnitsky قانون رکھتے ہیں۔ یہ قانون روسی وکیل سرگئی Magnitski کے نام پر ہے، جو کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف لڑتے رہے اور 2009 میں ماسکو کی ایک جیل میں مشکوک حالات میں انتقال کر گئے۔
وزیر خارجہ سٹیف بلاک نے کہا، "یہ ایک بہت بڑا قدم آگے ہے۔" کچھ یورپی ممالک کے لیے ’Magnitski‘ کا ذکر حساس تھا کیونکہ یہ زیادہ تر روس کی طرف اشارہ کرتا تھا، جبکہ یہ قانون عالمی سطح پر لاگو ہونا چاہیے۔ لہٰذا وزیر بلاک نے قانون کو اس طرح وسعت دی کہ یہ صرف روسی مشتبہ افراد تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں پر قابلِ اطلاق ہو۔
بلاک کے مطابق، جن یورپی ممالک کو پابندیوں پر اعتراض تھا، انہیں راضی کرنا پڑا۔ "خوش قسمتی سے ہم انہیں قائل کر سکے کہ ہمیں ایک پرعزم خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد اس پالیسی کا بنیادی اصول ہے۔"
ایک سال پہلے ہی نیدرلینڈز کو اس طرح کے منصوبے کی حمایت حاصل ہو گئی تھی، لیکن بورل کی پیشرو فیڈریکا موغیرینی نے اب تک کوئی اقدام نہیں لیا تھا۔ وزیر بلاک کا خیال ہے کہ تقریباً آدھا سال لگے گا کہ ایک تجویز سامنے آئے، جس کے بعد تمام یورپی یونین کے رکن ممالک کو اس تجویز کی منظوری دینی ہوگی۔

