یہ حکم دو جرمن پرائیویسی اداروں، گیسیلشافت فیئر فرائیہٹسریچٹے (GFF) اور ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل (DRI)، کی فوری درخواست کے بعد آیا ہے۔
برلن کی عدالت نے زور دیا کہ ان ڈیٹا تک فوری رسائی تحقیقی منصوبوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ایکس نے پہلے معلومات اور تعاون کی درخواست پر جواب نہیں دیا تھا۔ عدالت کا فیصلہ ایکس کو یہ پابند بناتا ہے کہ وہ اب سے انتخابی دنوں تک پیغامات کی پہنچ، شیئر کیے جانے والے پیغامات کی تعداد اور لائیکس جیسے ڈیٹا دستیاب کروائے۔
GFF اور DRI کا موقف تھا کہ ایکس یورپی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیغامات کی پہنچ، لائیکس اور شیئرز جیسے ڈیٹا تک باقاعدہ رسائی فراہم نہیں کرتا۔ دیگر پلیٹ فارمز نے یہ رسائی دی ہے، لیکن ایکس نے انکار کیا، جس کی وجہ سے قانونی کارروائی کی گئی۔
یہ کیس یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کا ایک بڑا قانونی امتحان ہے۔ مسک کی انکار سے ایکس کی یورپی قواعد کی تعمیل کے حوالے سے نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ یہ حکم تحقیق کی آزادی اور جمہوریت کے لیے ایک اہم کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔
DSA، جو 2024 میں مکمل طور پر نافذ ہوا، بڑے آن لائن پلیٹ فارمز کو ان کی معلومات کی تقسیم اور الگورتھم کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کا پابند بناتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایکس جیسے پلیٹ فارمز کو سخت رپورٹنگ معیارات کی تعمیل کرنی ہوگی اور غلط معلومات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے نگرانوں اور محققین کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
اگرچہ میٹا اور ٹک ٹاک جیسے دیگر سوشل میڈیا کمپنیاں DSA کی پابندی کر چکی ہیں، لیکن ایکس بار بار ان قواعد کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم نے پہلے غیر ملکی محققین اور غیر منافع بخش اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں، جس پر یورپی یونین کی طرف سے تنقید کی گئی ہے۔
ایکس نے ابھی تک اس حکم پر عوامی طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ یہ واضح نہیں کہ آیا کمپنی اس فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے قانونی کارروائی کرے گی۔ فی الحال یہ حکم ایکس کو پابند کرتا ہے کہ وہ انتخابات سے متعلق غلط معلومات کا تمام متعلقہ ڈیٹا محفوظ رکھے اور تحقیق کے لیے دستیاب کرے، کم از کم انتخابی دنوں کے چند دن بعد تک۔

